اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ وزارت صحت نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے کہ موجودہ صورتحال میں کن لوگوں کو ٹیسٹ کرانا چاہیے اور کن لوگوں کو ٹیسٹ نہیں کرانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایڈوائزری کے ذریعے تمام لوگوں کو پتہ …
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 173 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، پاکستان میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 25 ہو گئی، ڈاکٹر ظفر مرزا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ وزارت صحت نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے کہ موجودہ صورتحال میں کن لوگوں کو ٹیسٹ کرانا چاہیے اور کن لوگوں کو ٹیسٹ نہیں کرانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایڈوائزری کے ذریعے تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ کن لوگوں کو اس ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں پولی میریز چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیسٹ کو سب سے زیادہ معیار کا سمجھا جاتاہے۔ حکومت پاکستان بھی کورونا کی تشخیص کے لئے یہی ٹیسٹ تجویز کرتی ہے، اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں 14 لیبارٹریاں اسی ٹیسٹ کی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ ان لیبارٹیوں میں اب اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وبا کی حالیہ صورتحال میں ہر شخص کے لئے پی سی آر ٹیسٹ کرانا مناسب نہیں، چنانچہ وزارت صحت نے کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے پی سی آر ٹیسٹ کرنے کی ایک درجہ بندی کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جن میں سانس کی بیماریوںکی علامات ہوں اور انہوں نے کورونا وائرس کے مصدقہ مریض کے ساتھ وقت گزارا ہو یا حال ہی میں ایسے ممالک میں وقت گزارا ہو جہاں کورونا وائرس پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے کہاکہ بخار یا سانس کی نالی میں انفیکشن میں مبتلا وہ لوگ جو ہسپتال میں داخل ہوں، سانس کی تکلیف میں مبتلا وہ لوگ جن کا کورونا کے مریضوں کے علاج معالجہ میں کلیدی کردار ہے، یعنی ہیلتھ ورکرز، ایسے لوگ جن میں پرانی بیماریاں موجود ہوں ایسے مریض جو بہت ضعیف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تشویش ہے لیکن اگر ہرکوئی ٹیسٹ کرانا شروع کر دے تو یہ کٹس ان لوگوںکی وجہ سے ضائع ہونا شروع ہو جائیںگی جن کو ضرورت ہی نہیں اور وہ لوگ رہ جائیں گے جن کو اصل میں بیماری ہے، یہ ہمارے لئے بہت اہم ہے کہ اس ٹیسٹ کی ضرورت کو سمجھیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ لوگ ٹیسٹ کرانے کے لئے سفارش اور مختلف ذرائع استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ کن علامات کی صورت میں کورونا ٹیسٹ کرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 11 اموت ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہو چکی ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 173 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، پاکستان میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ہسپتالوں میں اس وقت 725 کورونا کے مریض داخل ہیں، بلوچستان میں 133، جی بی 107، اسلام آباد 39، آزاد کشمیر 2، پنجاب میں 490، سندھ میں 457 جبکہ کے پی میں 180 کورونا کے مریض ہیں۔








