کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وائرس کی وباءسے نمٹنے کےلئے عوام اور مختلف شعبوں کیلئے اقتصادی ریلیف پیکیج کی منظوری دیدی

اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کورونا وائرس کی وباءسے نمٹنے کےلئے عوام اور مختلف شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کے اقتصادی پیکیج کی منظوری دیدی ہے، پیکیج کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو کفالت پروگرام اور ضلعی انتظامیہ کی سفارش جبکہ صنعتی شعبے کے یومیہ مزدوروں کیلئے نقد مالی معاونت کے ضمن میں مجموعی …

اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کورونا وائرس کی وباءسے نمٹنے کےلئے عوام اور مختلف شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کے اقتصادی پیکیج کی منظوری دیدی ہے، پیکیج کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو کفالت پروگرام اور ضلعی انتظامیہ کی سفارش جبکہ صنعتی شعبے کے یومیہ مزدوروں کیلئے نقد مالی معاونت کے ضمن میں مجموعی طور پر 300 ارب روپے کی امداد دی جائے گی، دالوں کی درآمد پر 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو برانڈ نام کے بغیر چائے، مصالحہ جات، خشک دودھ اور نمک فراہم کرنے والے افراد اور کمپنیوں کو اب 4.5 کی بجائے 1.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس دینا ہو گا، اسی طرح کارپوریشن کو گھی، چینی، دالیں، اور آٹا فراہم کرنے والے افراد اور کمپنیوںکو 4.5 فیصد کی بجائے 1.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس دینا ہو گا، سویابین آئل، کینولا آئل، پام آئل، سن فلاورآئل اور ان چاروں آئل کے بیجوں پر 2 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔ ای سی سی کا خصوصی اجلاس پیر کو یہاں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصدکورونا کی وباءسے نمٹنے کیلئے حکومت کے اعلان کردہ امدادی اقدامات کیلئے تمام ضروری تقاضوں کو پوراکرنا تھا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 1200 ارب روپے مالیت کے اقتصادی امداد پرمشتمل پیکیج کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 84 اے تحت کورونا وائرس کے اثرات کوکم کرنے کیلئے ہنگامی ریلیف فنڈز کے قیام کیلئے 100 ارب روپے کے ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں معاشرے کے کمزورطبقات کو احساس پروگرام کے تحت نقد امداددینے کے خصوصی پیکج کی منظوری دی گئی، اس پیکیج کے تحت ایک کروڑ20 لاکھ خاندانوں کو کفالت پروگرام اورضلعی انتظامیہ کی سفارش پر نقد امداددی جائیگی، نقدامداد 4 ماہ تک کے عرصہ کیلئے دی جائیگی، بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے والوںکے علاوہ دیگر افراد کیلئے یہ معاونت ایک بارہوگی۔ یہ امداد کفالت کے شراکت داربنکوں بنک الحبیب اورالفلاح بنک کے ذریعے 12 ہزارروپے کی ایک قسط یا6 ہزارروپے کے دواقساط میں بائیومیٹرک تصدیق کے بعد فراہم کی جائیگی ، ای سی سی نے تخفیف غربت ڈویژن کو دونوں آپشن کی فیزایبلٹی پیش کرنے کی ہدایت کی، شراکت داربنکوں کوبرانچ لیس بنکنگ نیٹ ورکس کے ذریعے 72.9 ارب روپے کے اضافی فنڈز کی تقسیم کیلئے انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی، اس مقصد کیلئے احساس کیش اسسٹنس پیکیج کو ضمنی گرانٹ کی فراہمی کی جائیگی۔ اجلاس میں وزارت صنعت وپیداوارکی جانب سے تفصیلی بریفنگ کے بعد ای سی سی نے صنعتی شعبے کے یومیہ مزدوروں کیلئے نقد مالی معاونت کے ضمن میں 200 ارب روپے کی امدادکی منظوری دیدی۔ کیش امداد یومیہ اجرت کرنے والے ان مزدوروں کو دی جائیگی جو کروناکی وباءسے بے روزگارہوچکے ہیں، اجلاس کوبتایا گیا کہ اس کیٹگری میں 30 لاکھ ورکرز کا اندازہ ہے جنہیں 17500 روپے ماہانہ کی شرح سے ادائیگی کرنا ہوگی، اس مد میں ماہانہ اخراجات کاتخمینہ 52.5 ارب روپے ہے۔ ای سی سی نے صوبائی محکمہ ہائے محنت (لیبر) کومحنت کشوں کویہ معاونت فراہم کرنے کویقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ فنڈز کی فراہمی کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہو گی۔ ای سی سی نے اس ضمن میں محنت کے صوبائی محکموں کے ساتھ فوری مشاورت کرنے کی ہدایت کی تاکہ ضرورت مندوں کوامداد کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے معاشرے کے کمزوراورکم آمدنی والے طبقات کواشیائے خوردنوش رعایتی نرخوں پرفراہم کرنے کے ضمن میں یوٹیلیٹی سٹورزکارپوریشن کیلئے 50 ارب روپے کی منظوری دیدی۔ اجلاس کوبتایا گیاکہ کارپوریشن نے اس ضمن میں پاکستان پوسٹ فاونڈیشن لاجسٹک ڈویژن کے ذریعے 2 سے لے کر چار افراد پر مشتمل خاندان کیلئے 9 ضروری اشیاءپرمشتمل (تین ہزارروپے فی خاندان) پیکیج کی فراہمی کاابتدائی منصوبہ بنایا ہے۔کارپوریشن نے آئندہ دوتین ہفتوں میں ضروری اشیاءکی خریداری کا منصوبہ بھی ترتیب دیاہے۔ای سی سی نے یوٹیلیٹی سٹورزکارپوریشن کوبی آئی ایس پی کے ڈیٹا سے استفادہ کرنے اور پیکیج کو زیادہ مو¿ثر بنانے کیلئے معاملہ دوبارہ ای سی سی میں لانے کی ہدایت کی تاکہ اصل مستحقین تک امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیلزٹیکس وانکم ٹیکس ری فنڈز، ڈیوٹی ڈرابیک، اورکسٹمز ڈیوٹیز کی مد میں 10 سال سے زیرالتواءادائیگیوں کو یقینی بنانے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیوکیلئے 75 ارب روپے کی منظوری دی، اس رقم سے 6 لاکھ76 ہزار 55 افراد اوراداروں کوکیش کی بہتری میں مددملے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے معاشرے کے مختلف طبقات پرکرونا وائرس کے اثرات کو کم کرنے کیلئے مختلف اشیاءخوراک کی درآمداورفراہمی پر مختلف ٹیکسوں میں کمی کی منظوری دی، اجلاس میں دالوں کی درآمد پر 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس کوختم کر دیا گیا۔ اسی طرح یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو برانڈ نام کے بغیر چائے، مصالحہ جات، خشک دودھ اورنمک فراہم کرنے والے افراد اورکمپنیوں کو اب 4.5 کی بجائے 1.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا،اسی طرح کارپوریشن کو گھی، چینی، دالیں اورآٹافراہم کرنے والے افراد اورکمپنیوںکو 4.5 فیصد کی بجائے 1.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا۔ ای سی سی نے سویابین آئل، کینولا آئل، پام آئل، سن فلاورآئل اوران چاروں آئل کے بیجوں پردوفیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی ختم کردی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت تجارت کیلئے 30 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی، یہ گرانٹ ٹیکسٹائل کے ان برآمدکنندگان کوڈیوٹی ڈرابیک کی مدمیں دی جائیگی جن کاکاروبارکروناوائرس کی عالمگیروباءسے اثرات سے متاثرہواہے،اقتصادی رابطہ کمیٹی کوبتایا گیاکہ سٹیٹ بنک 49 ارب روپے کے کلیمز کی ادائیگی کیلئے کام کررہاہے جن میں سے 40 ارب روپے مالیت کے کلیمز جون 2020ءتک کلئیرہوجائیں گے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان ریلویزکے اخراجات کوپوراکرنے کیلئے 6 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی، پاکستان ریلویزنے 19 مارچ سے مسافربردارٹرینوں کاآپریشن روک دیاہے، منظورشدہ گرانٹ 70 ہزار ملازمین کو تنخواہوں، مرمت، یوٹیلیٹی اخراجات، پلیٹ فارمز اورٹرینوں کے اندر پرجراثیم کش سپرے پرخرچ ہوگی۔

مزید خبریں