اسلام آباد/ واشنگٹن ۔ 31 مارچ (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے انتظامی بورڈ نے ایک ٹریلین یا 10 کھرب ڈالرکے نئے دوطرفہ قرض معاہدے کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کے رکن ممالک سمیت کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کو قرضوں اورمعاونت کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں دورہوگئی ہے۔یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹالیناجوارگیوانے بورڈ کے اجلاس …
آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ نے 10 کھرب ڈالرکے نئے دوطرفہ قرض معاہدے کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد/ واشنگٹن ۔ 31 مارچ (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے انتظامی بورڈ نے ایک ٹریلین یا 10 کھرب ڈالرکے نئے دوطرفہ قرض معاہدے کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کے رکن ممالک سمیت کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کو قرضوں اورمعاونت کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں دورہوگئی ہے۔یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹالیناجوارگیوانے بورڈ کے اجلاس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئٹرپرجاری ہونے والے بیان میں کہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ رکن ممالک نے آئی ایم ایف کے قرضہ دینے کی استعداد کو ایک ٹریلین ڈالرتک بڑھانے کی منظوری دی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف ممبرممالک کوکروناوائرس کی وباءسے نمٹنے اوراس کے علاوہ دیگرمدوںمیں معاونت فراہم کرنے کے قابل ہواہے۔ انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ گروپ 20 ممالک کے کروناوائرس سے نمٹنے کے اس منصوبہ کی مکمل حمایت کرتا ہے جس میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، عالمی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے مربوط اورہدف پرمبنی اورمعیشتوں کی بحالی کیلئے اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ دریں اثناءآئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہاگیاہے کہ آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ نے نئے دوطرفہ قرضوں کے فریم ورک کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کے قرضہ دینے کی استعدادکارایک ٹریلین ڈالرتک بڑھ جائیگی۔بیان میں کہاگیاہے کہ ان اقدامات کے بعد آئی ایم ایف کے رکن ممالک کوکروناوائرس کی عالمگیروباءسے نمٹنے کیلئے قرضوں کی فراہمی ممکن ہوجائیگی۔قرضوں کی فراہمی کاسلسلہ یکم جنوری 2021 ءسے شروع ہوگا۔نئے فریم ورک کا نظام الاوقات تین برسوں پرمحیط ہے جو2023ءمیں اختتام پذیرہوگا تاہم اس میں ایک سال کی توسیع کی گنجائش رکھی گئی ہے۔








