لاہور۔31 مارچ(اے پی پی )وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کورونا وائرس کی مہم کے دوران دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے والے تمام شہریوں کو رہا کرنے کا حکم دےدیا۔پنجاب انصاف امداد پروگرام شروع کردیا۔ امیدواران آن لائن/ایس ایم ایس کے ذریعے اپلائی کریں گے اور تصدیق کے بعد 4ہزار روپے فی خاندان ادا کئے جائیں گے۔صوبہ بھر کی مساجد اورمدارس میں جراثیم کش سپرے کیاجائےگا۔سیمنٹ فیکٹریوں کو کورونا …
وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا وائرس ،اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ کی میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
لاہور۔31 مارچ(اے پی پی )وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کورونا وائرس کی مہم کے دوران دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے والے تمام شہریوں کو رہا کرنے کا حکم دےدیا۔پنجاب انصاف امداد پروگرام شروع کردیا۔ امیدواران آن لائن/ایس ایم ایس کے ذریعے اپلائی کریں گے اور تصدیق کے بعد 4ہزار روپے فی خاندان ادا کئے جائیں گے۔صوبہ بھر کی مساجد اورمدارس میں جراثیم کش سپرے کیاجائےگا۔سیمنٹ فیکٹریوں کو کورونا وائرس کی وجہ سے عائدپابندیوں سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔پنجاب سول سیکرٹریٹ کے دربار ہال میں کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بتایا کہ پنجاب انصاف امداد پروگرام کے تحت 25لاکھ خاندانوںکو فی کس 4ہزار روپے مالی امداد دی جائےگی جس کےلئے 10 ارب روپے مختص کئے جا چکے ہیں۔انصاف امداد حاصل کرنے کےلئے فارم کے حصول اور جمع کروانے کےلئے کسی دفتر نہیں آنا پڑےگا بلکہ ایس ایم ایس /آن لائن اپلائی کیا جاسکے گا۔پروگرام کو فول پروف اور کرپشن فری بنانے کےلئے کسی قسم کی سرکاری مداخلت نہیں ہوگی۔امیداواران کے کوائف کی تصدیق کے بعد انہیں 4ہزار روپے ادا کردئےے جائیں گے ۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ صوبہ بھر میں نمازیوں اور طلبہ کی صحت کے تحفظ کےلئے تمام مساجد اور مدارس میں جراثیم کش ادویات کا سپرے کر ےگا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ کورونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے جاری مہم کے دوران دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار شہریوں کو رہا کردیا جائےگا تاہم عوام اپنی اور دوسروں کی صحت کے تحفظ کےلئے بلاضرورت گھر سے باہر آنے سے گریز کریں اور اپنے آپ کو ہر صورت میں محدود رکھیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پنجاب میں 100بیڈز پر مشتمل ایکسپو سنٹر فیلڈ ہسپتال (آج)فنکشنل ہوجائےگا۔ انہوںنے بتایا کہ پنجاب میں کورونا کے کنفرم مریضوں کی مجموعی تعداد 662 ہے۔صورتحال کنٹرول میں ہے اور حالات انشاءاللہ بہتری کی طرف جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے بتایاکہ کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس میں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیاگیا اور قابل عمل سفارشات اورتجاویز پر غور کیا گیا۔کورونا ویکسین کی تیاری کےلئے طبی ماہرین اور محققین کو تمام تروسائل مہیا کرینگے۔ہوم قرنطینہ کے ایس او پیز چین سے آنے والے ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد جاری کئے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے بتایاکہ صوبہ بھر کے ہسپتالو ں اور قرنطینہ سنٹر وغیرہ میں پرسنل پروٹیکشن ایکویپمنٹ کی فراہمی کےلئے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ کمیٹی قائم کی جا رہے ہے جس میں ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہوں گے یہ کمیٹیا ں ایس او پی کے مطابق پرسنل پروٹیکشن ایکویپمنٹ کی فراہمی کا فیصلہ کرینگی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پنجاب میں تقریباً 1200تک ٹیسٹ روزانہ کئے جا رہے ہیں۔ہر ڈ ویژن میں بی ایس ایل تھری لیول لیب فنکشنل ہونے کے بعد ہم روزانہ 5سے 7ہزار کورونا ٹیسٹ کی استعداد حاصل کرسکیں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ کورونا کےخلاف جاری مہم میں برسر پیکار ڈاکٹر ز، ہیلتھ پروفیشنلز ،صحافی اور دیگر ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے افسران میرے لئے قابل قدر ہیں میں ان کے لئے نیک خواہشات کا ظہار کرتا ہوں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ذخیرہ ا ندوزوں سے نمٹنے کےلئے موثرمہم جاری ہے۔اشیائے ضروریہ کی فراہمی کسی صورت میں متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے نا گہانی صورتحال سے نمٹنے کےلئے ہنگامی پلان بھی تیار کر لیا گیاہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ حکومت پنجاب نے کورونا کے علاج کےلئے سب سے پہلے ڈاکٹر طاہر شمسی سے رابطہ کیااور مشاورت کی۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ہمارے ماہرین کورونا وائرس کے سدباب کے لئے دن رات تحقیق کر رہے ہیںمجھے یقین ہے کہ انشاءاللہ پاکستان سب سے پہلے مدافعت پیدا کرنے والی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے مزید بتایاکہ صورتحال کے پیش نظر پولیس میں فوری طور پر 10 ہزار سے زائد بھرتیاں کی جائیں گی ۔ منظور شدہ خالی آسامیوں کومراحلہ وار پر کیا جائےگا۔ پولیس کے انویسٹی گیشن اور آپریشنل امور کےلئے 25 کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے۔ پولیس کےلئے 500 سنگل کیبن پک اپ گاڑیاںخریدی جائیں گی۔ اگلے بجٹ میں مزید 182 گاڑیاں خریدنے کےلئے 75 کروڑ 57 لاکھ روپے فراہم کئے جائیں گے – 45تھانوں کی زیر تعمیر عمارتیں مکمل کر کے فعال کی جائیں گی۔ 101تھانوں کو سرکاری اراضی منتقل کرکے نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ پولیس کے خدمت مراکز کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرینگے ۔پولیس کو پبلک فرینڈلی بنانے کےلئے تمام تر اقدامات کرینگے ۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، چیف سیکرٹری، انسپکٹرجنرل پولیس ،سیکرٹریز صحت ،خزانہ ، اطلاعات اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔








