اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے دنیا بھر میں انسداد بدعنوانی کے معتبر اداروں کے انویسٹی گیشن افسران کے لئے یکساں معیار کے تناظر میں ریگولیٹڈ اور ایکریڈیٹنگ کے لئے ایکریڈیٹیشن کونسل کے قیام کی تجویز دی ہے۔ انویسٹی گیشن افسران اور پراسیکیوٹرز کی کارکردگی کے معیار کو بہتر رکھنے اور اس …
انویسٹی گیشن افسران کے لئے یکساں معیار کے تناظر میںایکریڈیٹیشن کونسل کے قیام کی تجویز دی ہے، چیئرمین نیب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے دنیا بھر میں انسداد بدعنوانی کے معتبر اداروں کے انویسٹی گیشن افسران کے لئے یکساں معیار کے تناظر میں ریگولیٹڈ اور ایکریڈیٹنگ کے لئے ایکریڈیٹیشن کونسل کے قیام کی تجویز دی ہے۔ انویسٹی گیشن افسران اور پراسیکیوٹرز کی کارکردگی کے معیار کو بہتر رکھنے اور اس میں بہتری کے لئے ٹریننگ موثر ذریعہ ہے، نیب عصر حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے انویسٹی گیشن افسران کی باقاعدہ بنیادوں پر تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ نیب نے پاکستان میں انویسٹی گیشن کے امور کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ایکریڈیٹیشن کونسل کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ ایکریڈیٹیشن کونسل کا مقصد بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور قانون سازی سے متعلق پیش رفت کے تناظر میں انویسٹی گیشن افسران کو درپیش چیلنجز کو باقاعدہ بنانا ہے جس کے لئے تمام سرکاری اور پرائیویٹ پروفیشنلز کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں تفتیشی افسران کی تربیت کے لئے کام کرنے والے اداروں کو بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق تربیت فراہم کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں، جہاں انویسٹی گیشن افسران کی تربیت بہت اہم ہے وہیں انویسٹی گیشن پروفیشنلز کی ریگولیٹنگ اور ایکریڈیٹنگ کے لئے ایکریڈیٹیشن کونسل کی تشکیل بھی انتہائی اہم ہے جو کہ دنیا بھر کے اس طرح کے اداروں کے لئے بہترین معیار بن سکتی ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کے انویسٹی گیٹرز کو ایکریڈیٹیشن کی ایک چھتری تلے لانے اور بیرونی وسائل کے ساتھ صلاحیتوں کو ہم آہنگ کرنے کے لئے یہ تجویز دی گئی ہے کیونکہ پاکستان میں نظم و نسق میں کرپشن کے تناظر میں انویسٹی گیشن کا شعبہ اہمیت کا حامل ہے جس میں ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کی کمی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کے لئے قومی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔








