معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف کا ”کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس کی تربیت“ کے حوالے سے آن لائن اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل سکیورٹی و سٹریٹجک پالیسی پلاننگ ڈاکٹر معید یوسف نے کہاہے کہ تھنک ٹینکس کورونا رضاکاروںاور ان کی تربیت کرنے والے ٹرینرز کی تربیت کیلئے گائیڈ لائنز کی تیاری میں معاونت کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر انتظام ”کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس کی تربیت“ …

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل سکیورٹی و سٹریٹجک پالیسی پلاننگ ڈاکٹر معید یوسف نے کہاہے کہ تھنک ٹینکس کورونا رضاکاروںاور ان کی تربیت کرنے والے ٹرینرز کی تربیت کیلئے گائیڈ لائنز کی تیاری میں معاونت کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر انتظام ”کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس کی تربیت“ کے حوالے سے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر معید یوسف نے رضا کار فورس کی تیاری اور ان کی تربیت کے حوالے سے حکومت کی معاونت کے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تھنک ٹینکس نوجوانوںاور ان کو تربیت دینے والے ٹرینرز کی تربیت سے حکومت کی معاونت کرسکتے ہیں جس سے کورونا بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ عابد قیوم سلیری نے کہا کہ تھنک ٹینکس اور تعلیمی ادارے اپنے وسائل بروئے کار لاکر تربیتی مواد تیار کرنے میں معاونت کرسکتے ہیں جبکہ وہ تربیت دینے والے ٹرینرز کی آن لائن تربیت میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی اعلان کردہ ٹائیگر فورس کی تربیت کا لائحہ عمل جلداز جلد مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے شرکاءنے کہا کہ رضاکاروں کی تربیت کیلئے ان میں تعلیم، مہارتوں اور ضرورت کے مقام کے اعدادوشمار مرتب کرنے کیلئے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم سے مددلی جائے۔ اس کے علاوہ ایدھی، اخوت اور سیلانی ٹرسٹ وغیرہ جیسے خیراتی اداروں کی معاونت کی جائے تاکہ کورونا وباءسے زیادہ متاثر ہونے والے افراد تک راشن وغیرہ کی فراہمی کیلئے ان اداروں کی معاونت کی جاسکے۔ اجلاس کے شرکاءنے معاشرتی، صوبائی اور ضلعی سطح پر رضاکاروں کی خدمات سے استفادہ کیلئے انکی تربیت ضروری ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ اچھا موقع ہے ہم سماجی تحفظ کے شعبہ میںاپنی خامیوں پر قابو پاسکتے ہیں اور رضا کار فورس کے ذریعے مختلف سماجی تحفظ کے پروگرامز سے مستفید نہ ہوسکنے والے طبقات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوںنے مزیدکہا کہ رضاکاروں کو اپنے تحفظ کے اقدامات کے بارے میںبھی تربیت دی جائے اس کے علاوہ نیشنل سکوائٹس، جانباز فورس اور گرلز گائیڈز کے علاوہ مذہبی فورس کو بھی بطور رضاکار رجسٹر کیا جائے۔

مزید خبریں