اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے ذخیرہ اندوزی اور چوربازاری کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی، پوری دنیا کو اس وقت مہلک وباءسے مقابلہ کرنے کا چیلنج درپیش ہے لیکن بعض مافیاز موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھانے پینے …
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے ذخیرہ اندوزی اور چوربازاری کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی، پوری دنیا کو اس وقت مہلک وباءسے مقابلہ کرنے کا چیلنج درپیش ہے لیکن بعض مافیاز موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھانے پینے اور اشیائے ضروریہ پر منافع خوری کر رہے ہیں، متعلقہ اداروں نے کھانے پینے کی اشیاءکی مصنوعی قلت میں ملوث عناصر کے خلاف رپورٹ تیار کر لی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو مہلک وباءکا مقابلہ کرنے، سپلائی چین کی بحالی اور دیہاڑی دار لوگوں کی مشکلات دور کرنے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے غریب لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے،1 کروڑ 20 لاکھ مستحق خاندانوں تک شفاف طریقے سے امدادی رقم پہنچانے کا طریقہ کار تقریباً طے ہو گیا ہے اور اس میں کرپشن بالکل نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس چین کی طرح وسائل نہیں کہ پورے ملک کو لاک ڈاﺅن کیا جائے، حکومت ملک میں مہلک وباءکے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے اور اسی سلسلے میں ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں، عوامی اور مذہبی اجتماعات اور شادی ہالز پر پابندی لگائی گئی ہے۔ شفقت محمود نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کے بند ہونے سے دیہاڑی دار طبقے کے لوگ متاثر ہوئے ہیں، حکومت نے غریب خاندانوں کو ان کے گھروں کی دہلیز تک راشن پہچانے کیلئے بروقت رضا کاروں پر مشتمل ٹائیگر فورس بنانے کا اقدام اٹھایا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ سپلائی چین کی بحالی بہت اہم ہے، حکومت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور مارکیٹوں میں ان کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔








