مقبوضہ کشمیر میں کرونا وباءکے پھیلاﺅ کو ر روکنے کیلئے پابندیوں کو ہٹایا جانا ناگزیر ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سے ٹیلیفون پر گفتگو

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں کرونا وبا کے پھیلاﺅ کو ر روکنے کیلئے پابندیوں کو ہٹایا جانا ناگزیر ہے، 80 لاکھ کشمیری، بھارتی استبداد سے نجات کیلئے عالمی برادری کی توجہ کے منتظر ہیں۔امریکہ طالبان امن معاہدہ افغانستان میں قیام امن کیلئے اہم سنگ میل ہے۔ پاکستان، افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے …

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں کرونا وبا کے پھیلاﺅ کو ر روکنے کیلئے پابندیوں کو ہٹایا جانا ناگزیر ہے، 80 لاکھ کشمیری، بھارتی استبداد سے نجات کیلئے عالمی برادری کی توجہ کے منتظر ہیں۔امریکہ طالبان امن معاہدہ افغانستان میں قیام امن کیلئے اہم سنگ میل ہے۔ پاکستان، افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت اپنا مصالحانہ کردار، خلوص نیت سے ادا کرتا رہے گا۔وزیر خارجہ نے بدھ کو یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماﺅں کے درمیان کورونا عالمی وبا کے پھیلاﺅ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے مختلف پہلوﺅں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے کورونا وائرس کے سبب یورپی یونین کے ممبر ممالک میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے، یورپی یونین کی جانب سے کیے گئے بروقت اقدامات قابل ستائش ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں یورپ بالخصوص سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے اظہار یکجہتی اور رضاکارانہ سرگرمیوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے موجودہ وبائی تناظر میں ،یورپی یونین کے سربراہ برائے امور خارجہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل کرفیو جاری ہے جس کے باعث وہاں ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وباءکے پھیلاﺅ کو ر روکنے کیلئے ان پابندیوں کو ہٹایا جانا ناگزیر ہے۔80 لاکھ کشمیری، بھارتی استبداد سے نجات کیلئے عالمی برادری کی توجہ کے منتظر ہیں۔ وزیر خارجہ نے بلا جرم و خطا، نظر بند، کشمیری حریت قیادت کی فوری رہائی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس عالمی وبائی چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے، کم وسائل کے حامل، ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لئے وزیر اعظم عمران خان نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ وہ اپنے وسائل اس عالمی چیلنج سے نمٹنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بروئے کار لا سکیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور مینجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف نے بھی اس حوالے سے حوصلہ افزا بیانات دیئے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ یورپی یونین، ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ری اسٹرکچر کی تجویز کو آگے بڑھانے میں ہماری بھرپور معاونت کریگا۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان افغان امن عمل بالخصوص امریکہ اور طالبان کے مابین طے پانے والے حالیہ امن معاہدے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں رہنماﺅں نے اس امن معاہدے کو افغانستان میں قیام امن کیلئے سنگ میل قرار دیتے ہوئے، اسے افغان قیادت کیلئے ایک نادر موقع قرار دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان, افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت اپنا مصالحانہ کردار، خلوص نیت سے ادا کرتا رہے گا۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے اس عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں اظہار یکجہتی کرنے پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل کو، حالات معمول پر آنے کے بعد دورہ ء پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کی۔دونوں رہنماﺅں کا اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے، مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

مزید خبریں