اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) پاکستان اور انڈونیشیا نے کرونا وائرس کی وبا کے انسداد کیلئے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق اور مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو انڈونیشیا کی وزیرِ خارجہ رتنو مارسودی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا انڈونیشیائی ہم منصب رتنو مارسودی کو ٹیلی فون

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) پاکستان اور انڈونیشیا نے کرونا وائرس کی وبا کے انسداد کیلئے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق اور مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو انڈونیشیا کی وزیرِ خارجہ رتنو مارسودی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے موثر انداز میں نبرد آزما ہونے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہءخیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے اس عالمی وبا کے باعث انڈونیشیا میں ہونے والے جانی نقصان پر پاکستان کی طرف سے انڈونیشیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار افسوس کیا۔ وزیر خارجہ نے اس وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے انڈونیشیا کی طرف سے کیے گئے بروقت اقدامات کو سراہا۔وزیر خارجہ نے اس وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے، پاکستان کی طرف سے کی جانے والے کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی انڈونیشیا کی طرح، اس مشکل وقت میں توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ایک طرف ہم اس وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے، سماجی فاصلے کو اپنانے پر زور دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف معیشت کے پہیے کو حرکت میں رکھنے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وبا کے چیلنج کی وجہ سے عالمی معیشت پر بہت مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ کم وسائل کے حامل ممالک کو اس آفت سے نمٹنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔اسی تناظر میں وزیر اعظم عمران خان نے اس مشکل گھڑی میں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے "قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی تجویز دی ہے تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل کو اس عالمی وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا اس وقت تمام اہم فورمز پر ہماری تجویز کو زیر غور لایا جا رہا ہے۔ترقی پذیر ممالک کی معاشی بحالی کیلئے اس وقت عالمی بینک، آئی ایم ایف، جی 20 اور یورپی یونین ،جیسے فورمز میں انہی خطوط پر غوروخوض ہو رہا ہے۔وزیر خارجہ نے انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کو اس وبائی تناظر میں، مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 80 لاکھ بے گناہ افراد کو کرفیو کے ذریعے محصور بنا رکھا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بلا جواز محاصرے کے خاتمے کیلئے بھارت پر زور دیا جائے تاکہ نہتے کشمیریوں کو خوراک اور ادویات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔انڈونیشیا کی وزیر خارجہ نے پاکستان میں زیر تعلیم انڈونیشین طلباء کا خیال رکھنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے کورونا وائرس کی وبا کے انسداد کیلئے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کرتے ہوئے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔








