اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کے لئے مراعاتی پیکج، کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈکے قیام اور تعمیراتی شعبے کو 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ان کا ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا، فکسڈ ٹیکس نافذ ہو گا، سیمنٹ اور سٹیل انڈسٹری کے سوا تمام تعمیراتی شعبوں …
وزیراعظم عمران خان کا تعمیراتی شعبے کے لئے مراعاتی پیکیج، 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کے لئے مراعاتی پیکج، کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈکے قیام اور تعمیراتی شعبے کو 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ان کا ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا، فکسڈ ٹیکس نافذ ہو گا، سیمنٹ اور سٹیل انڈسٹری کے سوا تمام تعمیراتی شعبوں پر پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں، گھر فروخت کرنے والوں سے کیپیٹل گین ٹیکس نہیں لیا جائے گا، مکمل لاک ڈاﺅن سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، 22 کروڑ لوگوں کو بند نہیں کر سکتے، ساری قوم مل کر کورونا کو شکست دے گی، خیراتی اداروں کی سرگرمیوں کو مربوط بنائیں گے، زراعت اور مال بردار ٹرانسپورٹ کا شعبہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے لگے کہ وفاق کوئی زبردستی کر رہا ہے، ٹائیگر فورس محلوں میں جا کر لوگوں کو آگاہی فراہم کرے گی، پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں سے متعلق پالیسی بنا رہے ہیں، کورونا ریلیف فنڈ کمزور طبقے کے لئے قائم کیا گیا ہے، بجلی اور گیس کے بل کی ادائیگی میں تین مہینے کا ریلیف دیا ہے، کسی کا کنکشن منقطع نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں تعمیراتی شعبے کے لئے مراعاتی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا پوری دنیا میں چیلنج بن چکا ہے، پاکستان میں کورونا کا چیلنج مغرب سے مختلف ہے، مغرب میں ایک طرف کورونا ہے تو دوسری طرف معیشت ہے اور پاکستان میں ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین نے ووہان کو مکمل طور پر دو ماہ کے لئے لاک ڈاﺅن کئے رکھا، پاکستان میں لاک ڈاﺅن کا مطلب ہے کہ غریب آبادیوں کو بند کرنا ہے، اس لئے پورے ملک کو لاک ڈاﺅن نہیں کر سکتے، اگر ہم لاک ڈاﺅن کرتے ہیں تو کیا ہم غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں گے، صرف ڈیفنس اور گلبرگ کے علاقے میں لاک ڈاﺅن کامیاب نہیں ہو گا، لاک ڈاﺅن کامیاب تب ہو گا جب کچی آبادیوں اور غریبوں کے محلوں میں بھی ہر جگہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں عام آدمی کو ریلیف پہنچانے کے لئے 1200 ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا ہے، ایسے خاندان جن کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہے، کو مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد پیکج لینے کے لئے رجسٹر ہوئے ہیں جس کے لئے حکومت نے ایک جامع پیکج کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کا شعبہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے اور چھوٹے بڑے شہروں میں ریستوران سے کھانے پینے کی چیزیں لے کر جانے کی اجازت ہے، اس کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرانسپورٹ کو بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مقامات پر مکمل لاک ڈاﺅن لگایا گیا ہے جہاں عوام کے اکٹھے ہونے کا خدشہ ہے جیسے کہ سکول، کالجز، شادی ہالز اور کھیلوں کے میدان ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وائرس کتنی تیزی سے پھیلے گا لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ پاکستان میں کورونا کا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے بعد تعمیرات دوسرا بڑا شعبہ ہے، ہماری خواہش ہے لوگوں کو روزگار دینے کے لئے اس بڑے شعبے کو ریلیف دیا جائے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدوروں کو روزگار ملے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تعیمراتی شعبے کو کھولنے سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا، تعمیراتی سیکٹر پر فکسڈ ٹیکس لگا رہے ہیں، سیمنٹ اور سٹیل انڈسٹری کے سوا تمام تعمیراتی شعبوں پر پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے ہاﺅسنگ پروگرام میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 90 فیصد ٹیکس ریبیٹ دیا جائے گا اور وہ صرف اپنے منصوبوں پر ٹیکس کی مجموعی رقم کا 10 فیصد ادا کریں گے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کی حکومتوں کی مشاورت سے تعمیراتی شعبے پر سیلز ٹیکس تمام ٹیکسوں کو یکجا کر کے دو فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے لئے 30 ارب کی سبسڈی دے رہے ہیں، جو خاندان اپنا گھر بیچنا چاہتا ہے تو ان پر کیپیٹل گین ٹیکس لاگو نہیں ہو گا، صوبوں کے ساتھ مل کر ٹیکس چھوٹ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ تعمیرات کو انڈسٹری کا درجہ دینے جا رہے ہیں اور تعمیرات کے لئے کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعطم نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ کو 14 اپریل سے کھول دیا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات سے متعلقہ شعبہ جات کو بھی کھولا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا ہے اور اس کا مقصد کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجہ میں بری طرح متاثر ہونے اقتصادی سرگرمیوں کو بحال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کا روزانہ کی بیناد پر جائزہ لیا جاتا ہے، پاکستان میں 80 فیصد مزدور رجسٹر نہیں ہیں جن کی رجسٹریشن ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 22 کروڑ لوگوں کو بند نہیں کر سکتے، مکمل لاک ڈاﺅن سے امن و امان کی صورتحال پید اہونے کا خطرہ ہے، ڈیفنس اور گلبرگ کو بند کرنے سے لاک ڈاﺅن کامیاب نہیں ہو گا، لاک ڈاﺅن اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کچی آبادیوں اور غریبوں کے محلوں کو بند کیا جائے اور ایسا نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لئے سوچنا ہو گا کہ کیا ہم غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں گے، کیا ہم کچی آبادیوں میں غریب لوگوں کو کھانا پہنچا سکتے ہیں، قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ وائرس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کو شکست دینے کے لئے قوم کو متحد ہونا ہے، کورونا کے خلاف بحیثیت قوم متحد ہو کر لڑنا ہے، ٹائیگر فورس اپنے علاقوں میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرے گی، خیراتی اداروں کی سرگرمیوں کو مربوط بنانے جا رہے ہیں، ان کی رجسٹریشن کی جائے گی اور جہاں پر ضرورت ہو گی ان تک رسائی حاصل کی جا سکے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں سے متعلق پالیسی بنا رہے ہیں، کورونا ریلیف فنڈ کمزور طبقے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف ان سے ہے جو بحران کو کرپشن چھپانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتا جس سے ایسا معلوم ہو کہ وفاق کچھ زبردستی کر رہا ہے۔ ٹائیگر فورس کا مقصد لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے، ٹائیگر فورس محلوں میں جا کر لوگوں کو گھروں میں رہنے کا سمجھائے گی، لوگوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیا گیا، اسی لئے لاک ڈاﺅن کامیاب ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کا اجلاس ہوا جس کے تمام وزرائے اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم بھی رکن ہیں، اس اجلاس میں ہم نے انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا ہے اور صوبے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مکمل لاک ڈاﺅن کیا تھا جس پر ان کے وزیراعظم کو معافی مانگنا پڑی کیونکہ سماجی دوری اختیار نہ کرنے اور لوگوں کے بے روزگار ہونے سے مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکمت سے اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے، ساری قوم مل کر کورونا کے چیلنج کو شکست دے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے بزرگ اور بیمار شہریوں کو خطرہ ہے، نوجوانوں کو اپنے بزرگوں اور بیمار اہل خانہ کو کورونا وائرس کے خطرے سے بچانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے لئے چار لاکھ سے زائد افراد کی رجسٹریشن ہو چکی ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی مزید رضا کار شامل ہوں گے، پاک فوج اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے مکمل مدد کر رہی ہے، انتظامیہ اور ہمارے ارکان قومی اسمبلی و دیگر سیاستدان بھی اپنی آراءدے رہے ہیں، آج ہم جس جگہ پر کھڑے ہیں پہلے ایسے حالات نہیں آئے، پاکستانی قوم نے سیلاب، زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا ہمیشہ بہادری سے مقابلہ کیا، ہم اب تمام خیراتی اداروں کو رجسٹرڈ کرنے جا رہے ہیں اور اتوار کو اس سلسلے میں اعلان کیا جائے گا، اس سلسلے میں منظم طریقہ کار اختیار کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو صارفین تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں انہیں تین مہینے تک بل جمع کرانے کی چھوٹ دیدی گئی ہے، جو لوگ کرائے نہیں دے سکتے ان کے لئے بھی ایک پالیسی بنا رہے ہیں، بجلی اور گیس کے بل کی ادائیگی میں تین مہینے کا ریلیف دیا ہے، کسی کا کنکشن نہیں کاٹا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ رواں سال حکومت کی طرف سے 82 لاکھ ٹن گندم خریدی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی سے متوسط طبقے کو بہت فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ری فنڈ کی مد میں 100 ارب روپے کاروباری برادری کو واپس کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر راولپنڈی رنگ روڈ کی تعمیر سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کہا کہ اس منصوبے کی پچھلے ایک سال سے منظم مانیٹرنگ ہو رہی ہے، راولپنڈی کے سول اداروں کی استعداد کا مسئلہ تھا جس کے بعد اب یہ منصوبہ لاہور رنگ روڈ اتھارٹی کو دینے پر غور ہو رہا ہے جس سے اس پر پیش رفت ہو گی۔








