ایشیائی ترقیاتی بنک کی رواں سال پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری کی شرح 2.6 فیصد اورآئندہ سال بحالی کے ساتھ 3.2 فیصد رہنے کی پیشنگوئی

اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) نے رواں سال پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری کی شرح 2.6 فیصد اورآئندہ سال بحالی کے ساتھ 3.2 فیصد رہنے کی پیشنگوئی کی ہے۔یہ بات ایشیائی ترقیاتی بنک نے ایشئین ڈولپمنٹ آوٹ لک 2020ءکی رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کرونا کی وبائ، معیشت کے استحکام کیلئے حکومت کے جاری اقدامات اورزرعی شعبے میں کم گروتھ …

اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) نے رواں سال پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری کی شرح 2.6 فیصد اورآئندہ سال بحالی کے ساتھ 3.2 فیصد رہنے کی پیشنگوئی کی ہے۔یہ بات ایشیائی ترقیاتی بنک نے ایشئین ڈولپمنٹ آوٹ لک 2020ءکی رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کرونا کی وبائ، معیشت کے استحکام کیلئے حکومت کے جاری اقدامات اورزرعی شعبے میں کم گروتھ کی وجہ سے سال 2020ءمیں پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری کی شرح 2.6 فیصد تاہم آئندہ سال یہ بحالی کے ساتھ 3.2 فیصدرہنے کاامکان ہے۔ بنک کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ژیاوھانگ ینگ نے کہاہے کہ حکومت کی جانب سے مضبوط اورفیصلہ کن پالیسی اقدامات کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، ان اقدامات کی وجہ سے میکرواکنامک عدم توازن اورحسابات جاریہ کے خسارے میں کمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ پاکستان کی معیشت پہلے سے بہترحالت میں ہے تاہم قوم کومل کروناوائرس کی وباءاوراس کے نتیجہ میں غیریقینی گروتھ کے امکانات سے پیداہونے والے منفی عوامل کے خاتمہ کیلئے کام کرناہوگا۔حکومت کاہنگامی امداد کا پیکج اورجامع احساس پروگرام معاشرے کے غریب اورکمزورطبقات کووباءکے منفی اثرات سے بچانے میں معاون ثابت ہوگا۔رپورٹ کے مطابق ٹڈی دل کے حملہ سے جاری مالی سال میں کپاس، گندم اوردیگربڑی فصلوں کوپہنچنے والے نقصان کی وجہ سے زرعی شعبے کی بڑھوتری سست روی کاشکاررہے گی تاہم ٹیکسٹائل اورلیدرجیسے برآمدی شعبوں میں معمولی اضافہ کی توقع ہے، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میںکمی رہی تھی اورباقی مدت میں بھی اس میں کمی کارحجان جاری رہنے کاامکان ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ کرونا کی عالمگیروباءنے پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری پراضافی دباﺅ ڈالا ہے اوراس کے نتیجہ میں طلب میں کمی اوربرآمدکنندگان، تجارت اورصنعتوں پراثرات مرتب ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مالی سال 2020ءمیں مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد جبکہ ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدرمیں پہلے 7 ماہ کے دوران 9.8 فیصد گراوٹ کا اندازہ ہے،رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021ءسے مہنگائی کی شرح کم ہوکر8.3 فیصد ہوجائیگی۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ایکسچینج ریٹ میں کمی اورضابطہ جاتی ڈیوٹیوںکے اطلاق سے مالی سال 2020ءمیں مالیاتی خسارے میں کمی کاتسلسل برقراررہے گا اورجی ڈی پی کے تناسب سے یہ 2.8 فیصد تک رہنے کاامکان ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ پاکستان کے موجودہ میکرواکنامک چیلنجز اس بات کے متاضی ہیں کہ سماجی تحفظ، صحت، تعلیمی نظام اورکمزورطبقات کیلئے ریلیف کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جائے۔