اسلام آباد ۔ 6 اپریل (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کی انتہا پسند حکومت کی طرف سے ہندو توا نظریہ کے تحت بھارت کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو غیر ملکی کہہ کر پکارنا، اْنہیں بھارت کے لیے خطرناک قرار دینا اور مسلمانوں کو کورونا کی …
بھارت کا ہندو توا نظریہ کے تحت مسلمانوں کو بدنام کرنا تشویش ناک ہے،اْنہیں خطرناک اورکورونا کی وباء پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینا ایک شیطانی مہم کا حصہ ہے ،سردار مسعود خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 اپریل (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کی انتہا پسند حکومت کی طرف سے ہندو توا نظریہ کے تحت بھارت کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو غیر ملکی کہہ کر پکارنا، اْنہیں بھارت کے لیے خطرناک قرار دینا اور مسلمانوں کو کورونا کی وبا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینا ایک شیطانی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد بھارت کی مسلم اقلیت کو بدنام کر کے اْنہیں انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔پیر کو یہاں جاری بیان میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت میں اسلامو فوبیا جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے اور اسے سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمانو ں کے خلاف نفرت کی ایک وبا کی طرح پھیلایا جا رہا ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ معتبر بین الاقوامی اخبارات اور جرائد بھارتی جنتا پارٹی کے فسطائی ایجنڈہ کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ پورے بھارت میں ایک منظم سازش کے تحت بھارتی مسلمانوں کو بد نام کرنے اور اِن کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن برائے مذہبی آزادی ایمبسڈر سیم براؤن بیک نے بھی بھارت سمیت دنیا کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کی ذمہ داری مذہبی اقلیتوں پر ڈالنے سے گریز کیا جائے۔ صدر آزاد کشمیر نے مقبوضہ کشمیر کے کلگام میں بھارتی فوج کی طرف سے پوری بستی کو نذر آتش کرنے اور 9 کشمیریوں کو شہید کرنے اور متعدد کو زخمی کرنے کے واقعہ کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارتی ظلم و بربریت کا نوٹس لیں۔ پیر کے روز مقبوضہ کشمیر میں 9 کشمیریوں کی شہادت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام ایک جانب کرونا کی قدرتی آفت سے لڑ رہے ہیں اور دوسری جانب اْنہیں بھارت استعمار کی طرف سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ بھارت کی درندہ صفت فوج نے کولگام میں چار نوجوانوں اور اْس کے قبل کپواڑہ میں پانچ شہریوں کو بے دردی سے گھر گھر تلاشی کے دوران قتل کر دیا تھا۔ دو دنوں میں نو کشمیریوں کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت ایک ایسے وقت میں کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے جب پوری دنیا اور خود مقبوضہ کشمیر کے عوام کورونا جیسی مہلک وبا سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔اْنہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر جو دوہر ی قیامت ڈھائی جا رہی ہے اْس پر آواز اْٹھانا اور بھارت کو مظالم سے باز رکھنے کے لیے اس کا ہاتھ روکنا بین الاقوامی برادری کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد کا شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری بھارت کے جبر کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے بھارتی حکومت کی طرف سے نئے ڈومیسائل قانون کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے مقبوضہ ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی اس بھارتی چال کو مسترد کر دیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے بھارتی حکومت کے ڈومیسائل قانون کی مزحمت کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کا یہ کہنا بلکل درست ہے کہ بھارت کے ان اقدامات سے مقبوضہ کشمیر میں پہلے سے خراب صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔








