وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا احساس سینٹر میں انتظامی امور کا جائزہ لینے اورنگی ٹاون کا دورہ

کراچی۔ 16اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے احساس سینٹر میں انتظامی امور کا جائزہ لینے اورنگی ٹاون کے گورنمنٹ ڈگری کالج کا دورہ کیا۔ دورے کے موقع پرجمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ کراچی کے تمام سینٹرز کا میں خود دورہ کرونگا،یہاں پیسوں کی تقسیم بڑے منظم طریقوں سے جاری ہے، 144 ارب روپے ایک لاکھ بیس ہزار …

کراچی۔ 16اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے احساس سینٹر میں انتظامی امور کا جائزہ لینے اورنگی ٹاون کے گورنمنٹ ڈگری کالج کا دورہ کیا۔ دورے کے موقع پرجمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ کراچی کے تمام سینٹرز کا میں خود دورہ کرونگا،یہاں پیسوں کی تقسیم بڑے منظم طریقوں سے جاری ہے، 144 ارب روپے ایک لاکھ بیس ہزار خاندانوں میں بانٹنا ہے جو کوئی آسان بات نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا سے وابستہ افراد پر ایک مشکل وقت ہے، میڈیا ہاﺅسز کے مالکان سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے ورکرز کے ساتھ تعاون کریں،تمام مالکان اپنے ورکرز کو بروقت تنخوایں ادا کریں،میں تمام مالکان سے ہاتھ جھوڑ کر کہتا ہوں فرنٹ لائن سولجر کا ساتھ دیں،میڈیا ورکرز ہمارے فرنٹ لائن سولجرز ہیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے اراکین سندھ اسمبلی سدہ عمران، ڈاکٹر سنجے گنگوانی، پی ٹی آئی ضلع غربی کے صدر امجد آفریدی اور دیگر موجود تھے۔ علی زیدی نے کہا کہ میری تنقید برائے اصلاح پر بھی تنقید ہورہی ہے،ہمیں سندھ حکومت کو آئینہ دکھانا ضروری ہے،سندھ میں تعلیم کا معیار سب کے سامنے ہے،کالجز کی دیواریں گر رہی ہیں، ہم نے تو انہیں سہی کرنے سے نہیں روکا۔کرائسز کے ساتھ مواقع بھی آتے ہیں،یہ وقت ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور کام کیا جائے،میرے پاس دو ادارے ہیں جو کراچی کے ہیں،ہم نے کے پی ٹی میں اسپرے مہم کا آغاز کردیا ہے،ہماری دیکھا دیکھی دوسرے اداروں نے بھی اسپرے مہم کا آغاز کردیا ہے،وفاق مشکل وقت میں ہر لحاظ سے سندھ کی مدد کر رہاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں سندھ حکومت کو کہتا ہوں یہ وقت اپنے آپ کو درست کرنے کا ہے،آج میں اورنگی ٹاﺅن میں داخل ہوا تو ایک نالہ دیکھا جو کچرے سے بھرا ہوا تھا،یہ وہی نالہ تھا جس سے ایک وقت پہلے ہم نے صاف کروایا اور وہاں سے پانی چل رہا تھا،آج وہی نالہ کچرے کے ڈھیر سے بھرا ہوا ہے۔ علی زیدی نے کہا کہ نالے صاف کروانا ہمارا کام نہیں،ڈیفنس کلفٹن میں لاک ڈاﺅن کی صورتحال قابل تعریف ہے، مگر وہاں لوگ رہتے کتنے ہیں؟عوام بغیر کھائے کمائے گھر میں نہیں رہ سکتی،ہم یہی کہتے ہیں لاک ڈاﺅن میں فلٹر کی ضرورت ہے، یہ پرانی روایات ہیں کہ کوئی سنتا نہیں، سماجی فاصلے کا کوئی خیال نہیں رکھتا،میں سندھ پولیس سے بالخصوص کہتا ہوں کہ سماجی فاصلے پر سختی سے عمل کروائیں۔

مزید خبریں