چیئرمین میاں جاوید لطیف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ،میڈیا کو انتقام کا نشانہ بنانا اور میڈیا نمائندوں کو جیل میں ڈال کر اپنا بیانیہ منوانا ہماری پالیسی نہیں ہے، میڈیا کو ہم اپنی طاقت مانتے ہیں،معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا اجلاس مین اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے کورونا وائرس کی وباء کے نقصانات کو کم کرنے کے حوالہ سے یکجہتی سے مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد میں قومی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے، اجلاس میں ایک نجی چینل کی طرف سے اٹھائے گئے معاملہ پر نیب پراسیکیوٹر کی …

اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے کورونا وائرس کی وباء کے نقصانات کو کم کرنے کے حوالہ سے یکجہتی سے مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد میں قومی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے، اجلاس میں ایک نجی چینل کی طرف سے اٹھائے گئے معاملہ پر نیب پراسیکیوٹر کی طلبی کے حوالہ سے قانونی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں حکومت کی طرف سے کورونا وائرس کے حوالہ سے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو کمیٹی کے چیئرمین میاں جاوید لطیف کی زیر صدارت پیمرا ہیڈ کوارٹرز کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ کمیٹی اراکین کے علاوہ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین پیمرا مرزا سلیم بیگ اور ایم ڈی پی ٹی وی عامر منظور نے شرکت کی جبکہ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا وباء سے متاثر ہے اور پاکستان بھی متاثر ہوا ہے، لاک ڈائون کے حوالہ سے مختلف آراء ہیں، حکومت اس پر بریفنگ دے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میڈیا نے مجموعی طور پر کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال میں ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، مخیر حضرات کو احساس دلانے، آگاہی اور حکومتی خامیوں کو دور کرنے کیلئے بھی میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، آج کے اجلاس کا مقصد یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد یہ بھی ہے کہ پل کا کردار ادا کرتے ہوئے کورونا سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے اپنا کردار کریں کیونکہ دیہاڑی دار محنت کش بے روزگار ہونے کے علاوہ ایک سفید پوش طبقہ بھی بہت زیادہ متاثر ہوا ہے ہمیں ان کی مشکلات کا بھی اندازہ ہے، حکومت کا کام صرف لوگوں کی صحت کا خیال رکھنا ہی نہیں بلکہ بھوک و افلاس کو روکنا بھی ہے جو حکومت تن تنہا نہیں کر سکتی۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پاکستان 48 واں ملک ہے جو کورونا کی وباء کا شکار ہوا، ہم سے پہلے 47 ممالک میں یہ پھیل چکا تھا، 26 فروری کو پہلا کیس زائرین کی شکل میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم کسی بھی خواہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں سب کو یکجہتی سے مل کر وباء کا مقابلہ کرنا ہے، اپوزیشن کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے قومی اور وسیع تر ملکی مفاد میں فیصلے کرنے میں حکومت کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر نے بھی اس میں حکومت کا ساتھ دیا جب آزاد کشمیر اور جی بی میں سبزیاں اور غذائی اشیاء کی قلت پیدا ہونے لگی تو ان کی آواز پر وفاقی حکومت نے لاک ڈائون میں نرمی کی تاکہ لوگ بھوک سے نہ مریں اور ان تک اشیاء ضروریہ بروقت اور مناسب مقدار میں پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آ رہا ہے اس کیلئے بھی واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے اور جو ایس او پیز حکومت کے ساتھ طے کئے گئے ہیں ان پر عملدرآمد ضروری ہے، وزیراعظم عمران خان نے علماء کرام سے ملاقات میں اتفاق رائے سے مساجد کو کھولنے کا فیصلہ کیا اور علماء کرام نے بھی ایس او پیز پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی لیکن ہمیں تحفظات ہیں کہ ان پر اس طریقہ سے عمل نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس چیلنج کو مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ جب تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ ایس او پیز طے ہوئے ہیں ان پر عملدرآمد بھی سب کی ذمہ داری ہے، حکومت کے سامنے ایک محاذ کورونا ہے تو دوسرا محاذ بھوک و افلاس کا بھی ہے، حکومت قومی سلامتی کونسل کے 10 اجلاس اس حوالہ سے منعقد کر چکی ہے، نیشنل کوآرڈینیشن سیل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ سب سے مشاورت کا عمل بھی جاری رہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ 472 یومیہ ٹیسٹ اور دو لیبارٹریوں کی گنجائش تھی، اب یومیہ 8 ہزار ٹیسٹ ہو رہے ہیں اور 60 لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں، چین سے بھی ماہرین بلا کر عملہ کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اختیارات ہیں، انہوں نے اپنے ایس او پیز خود بنانے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک کا انحصار 70 فیصد زراعت پر ہے اور زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانا بھی ضروری ہے اس لئے لاک ڈائون کو نرم رکھا گیا ہے، ہم علماء اور پولیس کو سڑکوں پر گتھم گتھا نہیں دیکھنا چاہتے تھے اس لئے مساجد کو علماء کرام کی مشاورت سے طے شدہ ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ میڈیا کو انتقام کا نشانہ بنانا اور میڈیا نمائندوں کو جیل میں ڈال کر اپنا بیانیہ منوانا ہماری پالیسی نہیں ہے، میڈیا کو ہم اپنی طاقت مانتے ہیں، جہاں بھی کبھی میڈیا سے ناانصافی ہوئی حکومتی ترجمان کی حیثیت سے میڈیا کے ساتھ کھڑی ہوئی