کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، پوری قوم متحد ہو کر اس وباء کے خلاف جنگ جیتے گی، اس حوالہ سے قوم کے ہر فرد کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا، وزیراعظم عمران خان کا کورونا ریلیف فنڈ کے حوالہ سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، پوری قوم متحد ہو کر اس وباء کے خلاف جنگ جیتے گی، اس حوالہ سے قوم کے ہر فرد کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا، جتنی زیادہ احتیاط کی جائے گی نقصان کا احتمال اتنا ہی کم ہو گا، وباء …

اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، پوری قوم متحد ہو کر اس وباء کے خلاف جنگ جیتے گی، اس حوالہ سے قوم کے ہر فرد کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا، جتنی زیادہ احتیاط کی جائے گی نقصان کا احتمال اتنا ہی کم ہو گا، وباء اور لاک ڈائون کے باعث سب سے زیادہ معاشرہ کے غریب اور کمزور طبقات متاثر ہوئے ہیں، ریلیف فنڈ سے حاصل ہونے والی تمام رقم ان کی امداد پر خرچ کی جائے گی، امیر اور صاحب استطاعت طبقہ اس مشکل وقت میں آگے بڑھے، احساس پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اور شفاف پروگرام ہے جس کے فنڈز کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، اب ہمیں سمارٹ لاک ڈائون کرنا پڑے گا، چھوٹی دکانیں، کاروبار اور کنسٹرکشن کو کھولنا ہو گا، تعمیرات کا شعبہ دیگر صنعتوں کیلئے بھی محرک کا کردار ادا کرے گا جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اس وقت دنیا کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے تاہم مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد پاکستان مزید مضبوط ملک کے طور پر ابھرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کورونا ریلیف فنڈ کے حوالہ سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملک کے مختلف چینلز سے وابستہ اینکرز بھی ٹیلی تھون میں شریک تھے۔ اس موقع پر اندرون و بیرون ملک سے بڑی تعداد میں مخیر حضرات نے وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کیلئے کروڑوں روپے کے عطیات کا اعلان کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کبھی بھی ہمارے ملک اور دنیا کی تاریخ میں ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی جیسی اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے لاک ڈائون کیا ہے، اس کے اثرات سامنے آئیں گے، لوگوں کے پاس جو جمع کی ہوئی رقم تھی یا جو ہم انہیں امداد دے رہے ہیں وہ خرچ ہو رہی ہے، بھوک میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا ردعمل بھی ویسا ہی ہونا چاہئے جیسا پہلے دیکھنے میں نہیں آیا، حکومت اپنی طرف سے مستحق افراد کی امداد کی پوری کوشش کر رہی ہے، ہم نے ایک بڑا پیکیج دیا ہے، ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر قیادت احساس پروگرام زبردست اور شفاف انداز میں چل رہا ہے، مالی امداد کی تقسیم کا تمام نظام کمپیوٹرائزڈ ہے اور ڈیٹا بیس کی بنیاد پر مالی امداد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو وقت آگے آ رہا ہے اس میں ساری قوم کو مل کر مقابلہ کرنا پڑے گا، اکیلے کوئی حکومت ایسی صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو چاہئے کہ جتنے بھی عطیات کر سکتے ہیں کریں، بعض اوقات ہمارے لوگوں کو یہ خوش فہمی بھی ہو جاتی ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کے حوالے سے پاکستان میں یورپ یا امریکہ جیسے حالات نہیں ہیں اور ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید ہم اس کے پھیلائو سے بچ جائیں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اتنی تیزی سے پھیلنے والا وائرس پہلے کبھی نہیں آیا اور باقی مختلف اقسام کے وائرس سے یہ مختلف ہے، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور ہر ممکن حد تک احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے جب بھی ضرورت پڑی ہے اپنے ملک کی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مقابلہ ہو تو ہمیں اس کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے تبھی جا کر کامیابی ملتی ہے، ان کی والدہ بھی زکوة کے ذریعے مدد کرتی تھیں، ہم نے شوکت خانم ہسپتال بھی بنانا شروع کیا تو اس کیلئے لوگوں نے دل کھول کر عطیات دیئے، اللہ کی راہ میں دینے والا کبھی خسارے میں نہیں رہتا اور اسے سکون حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ دوسرے ذرائع سے اسے دے دیتا ہے، ہسپتال کے لئے جب ہم پیسے اکٹھے کرنے نکلے تو ان لوگوں نے بھی ہماری مدد کی جن کے ساتھ پہلے کبھی ہمارا رابطہ نہیں تھا اور ان کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حقیقی خوشی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت سے حاصل ہوتی ہے، شوکت خانم ہسپتال کا سالانہ خسارہ دس ارب روپے ہے اور اب مجھے یہ ڈر لگنے لگا ہے کہ ہماری ساری توجہ کورونا کی طرف ہے اور بہت زیادہ لوگ مشکل میں ہیں لیکن اللہ پر یہ ایمان ہے کہ جو ہسپتال 70 کروڑ روپے میں بنا ہے اور اس کا دس ارب روپے کا سالانہ خسارہ ہے لیکن اس کے باوجود اس سے زیادہ رقم جمع ہو جاتی ہے، کوئی انسان تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں دیہاڑی دار، ٹیکسی والے اور رکشے والے سب مشکل میں ہیں، ہم نے فنڈ جمع کرنے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جب تک مالیاتی کنٹرول کا بندوبست نہیں کر لیا، پیسے اکٹھے کرنے کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ وہ حقدار تک پہنچیں، احساس پروگرام کے تحت جتنی مالی امداد کی جا رہی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی، 12 ہزار روپے کی تقسیم کے حوالے سے ہم بتا سکتے ہیں کہ کس تحصیل اور کس یونین کونسل میں کس کو مالی امداد ملی ہے، سارا نظام کمپیوٹرائزڈ ہے، سیاست کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ سب سے زیادہ رقم سندھ میں تقسیم کی گئی ہے جہاں پر غربت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی مالی امداد کے لئے ایس ایم ایس کرتے ہیں ان کو نادرا کے ریکارڈ کے ذریعے چیک کیا جاتا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگ نکالے بھی گئے ہیں، اب تک 13 کروڑ افراد نے مالی امداد کے لئے ایس ایم ایس کئے ہیں لیکن ہم نے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کے لئے 44 ارب روپے مختص کئے ہیں، کورونا وائرس کی صورتحال جب تک رہے گی ہم نے اپنے لوگوں کی مدد کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور نے پہلے لاک ڈائون کیا تھا لیکن پھر جب لاک ڈائون ختم کیا تو کورونا پھر پھیلنا شروع ہو گیا،