کورونا وائرس کی عالمی وباکے باعث صرف برآمدات میں کمی سے قومی معیشت کو چار ارب ڈالر کا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ”ٹاون ہال ورچوئل اجلاسوں” کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 24 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ہمیں کورونا وائرس کی عالمی وباکے باعث صرف برآمدات میں کمی سے قومی معیشت کو چار ارب ڈالر کا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے، برطانیہ میں کورونا سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید دکھ ہے، پاکستانی ڈاکٹروں اور طبی عملے نے بیرون ملک پاکستان کا نام روشن اور ہمارے سر فخر …

اسلام آباد ۔ 24 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ہمیں کورونا وائرس کی عالمی وباکے باعث صرف برآمدات میں کمی سے قومی معیشت کو چار ارب ڈالر کا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے، برطانیہ میں کورونا سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید دکھ ہے، پاکستانی ڈاکٹروں اور طبی عملے نے بیرون ملک پاکستان کا نام روشن اور ہمارے سر فخر سے بلند کر دیئے۔وزیر خارجہ جمعہ کو بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو کورونا وبا کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کرنے اور ان کو درپیش مسائل سننے کیلئے ”ٹاون ہال ورچوئل اجلاسوں” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر خارجہ کی زیر صدارت برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ بذریعہ ویڈیو لنک ٹاؤن ہال اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا اور برطانیہ میں پاکستان ہائی کمیشن میں تعینات وزارت خارجہ کے افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی کثیر تعداد بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئی۔ وزیر خارجہ نے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں برطانیہ سمیت پوری دنیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو رمضان المبارک کی مبارک باد دیتا ہوں۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جس طرح مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا اس پر میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ اس وقت پوری دنیا کورونا کے چیلنج کے باعث مشکلات سے دوچار ہے۔ کورونا وائرس کی بناء پر ساری دنیا عملاً رک چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں کورونا سے قیمتی انسانی جانوں کا جو ضیاع ہوا ہے اس پر شدید دکھ ہے، ان میں بہت سے پاکستانی بھی ہیں جو لقمہ اجل بنے میں ان کیلئے دعاگو ہوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ پاکستانی ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کو شاندار قربانیوں اور خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کا دوسروں کی جان بچانے کے لے عظیم جذبہ قابل قدر ہے بالخصوص برطانیہ اور امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹرز کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مشکلات ختم کرنے کے لئے کوششیں کررہے ہیں۔آج ان پاکستانیوں کی تعداد 60 ہزار سے زائد ہو چکی ہے اور اس میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونی ممالک سے آنیوالے پاکستانی شہریوں کو کوارنٹین کرنے کے سلسلے میں استعداد کار کے مسائل درپیش ہیں۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ ہم پی آئی اے کے علاوہ دوسری ایئرلائن کی خدمات حاصل کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جا سکے، اس لیے ہم نے قطر ایئرلائن کو بھی اجازت دی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ معیشت کو سہارا دینے کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے ریلیف پروگرام 2020 کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ہماری معیشت بہتر ہو رہی تھی برآمدات میںگذشتہ برس کی نسبت 40 فیصد اضافہ ہو چکا تھا باقی معاشی اشاریے بھی بہتری کی طرف جا رہے تھے لیکن پھر ہمیں باقی دنیا کی طرح کورونا کا سامنا کرنا پڑا، ہماری معیشت کو کورونا وائرس کی وبا کے باعث محض برآمدات میں کمی کی وجہ سے چار ارب ڈالر کا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم معاشی سفارت کاری کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ہم کنسٹرکشن، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹرز پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ ہماری معیشت بہتری کی طرف جا سکے۔ حکومت پاکستان کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے، اپنے محدود وسائل میں بھرپور اقدامات کررہی ہے۔ نجی شعبے کو معاشی رعایت دے کر اقتصادی سرگرمیوں کے امکانات تلاش کئے جارہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں برطانیہ میں مقیم مخیر پاکستانیوں سے گذارش کروں گا کہ وہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ساتھ مل کر، پاکستانی کمیونٹی کیلئے راشن، سحر افطار کا اہتمام کریں اللہ تعالیٰ اس مقدس مہینے کے صدقے انسانیت کو اس عذاب سے نجات دے۔