اسلام آباد ۔ 2 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا بحیثیت قوم مل کر مقابلہ کرنا ہے، کتنا عرصہ صورتحال اسی طرح رہے گی کوئی نہیں جانتا، عوام کو مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا، تین ہفتے کے اندر احساس کیش پروگرام کے ذریعے مستحقین میں 81 ارب روپے تقسیم کئے، بیروزگار ہونے والوں کے …
ہمیں کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا بحیثیت قوم مل کر مقابلہ کرنا ہے، وزیراعظم

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا بحیثیت قوم مل کر مقابلہ کرنا ہے، کتنا عرصہ صورتحال اسی طرح رہے گی کوئی نہیں جانتا، عوام کو مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا، تین ہفتے کے اندر احساس کیش پروگرام کے ذریعے مستحقین میں 81 ارب روپے تقسیم کئے، بیروزگار ہونے والوں کے لئے پروگرام کا آغاز کر دیا، ویب پورٹل کے ذریعے رجسٹر ہونے والوں کو 12 ہزار فی کس دیں گے، یہ پروگرام سیاست سے پاک، میرٹ پر پیسہ دیا جائے گا، عام آدمی کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برصغیر میں دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں سب سے کم ہیں، صنعتی و تعمیراتی شعبے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری طبقے کو تاریخی ریلیف دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ایسے بیروزگار افراد جو کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث ملازمت و کام سے محروم ہو گئے ہیں، رجسٹریشن کے لئے ویب پورٹل کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس ویب پورٹل پر رجسٹریشن کرانے والوں کو جانچ پڑتال کے بعد حکومت کی طرف سے نقد امداد فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے پورٹل کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کا زبردست پروگرام ہے جس کے ذریعے کوویڈ 19 اور لاک ڈاﺅن سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث بے روزگار ہونے والوں کی مدد کی جائے گی۔ انہوں نے ٹائیگر فورس کے رضا کاروں پر زور دیا کہ وہ ہر یونین کونسل میں اپنے ڈیسک قائم کریں اور اپنے روزگار سے محروم ہونے والے افراد کی رجسٹریشن میں ان کی مدد کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ خود کو رجسٹرڈ کرانے والے افراد کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور حقیقی مستحقین کو ہی نقد رقوم بھجوائی جائیں گی، جس طرح احساس کیش پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو 81 ارب کی خطیر رقم تین ہفتے کے اندر تقسیم کی گئی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم ریلیف فنڈ میں عطیات دینے والوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ ان کے عطیات شفاف طریقے سے خرچ کئے جائیں گے، میں خود ان کی نگرانی کروں گا اور تمام تفصیلات قوم کے سامنے پیش کریں گے اور اس کا اسی طرح آڈٹ ہو گا جس طرح شوکت خانم اور نمل جیسے منصوبوں کا ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس پروگرام کے لئے جتنی رقم عطیات کی صورت میں وصول ہو گی اس میں چار گنا حصہ حکومت ڈالے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ عوام لاک ڈاﺅن سے شدید متاثر ہوئے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک مدد پہنچائیں، ہمیں معلوم ہے ابھی ہم سب لوگوں تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ یہ ایک مشکل کام ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کے باعث ساری دنیا متاثر ہوئی ہے اور ہر جگہ حکومتیں کوشش کر رہی ہیں کہ کاروبار شروع ہو سکے، نیویارک جیسا شہر جہاں روزانہ ایک ایک ہزار لوگ مرتے رہے وہاں بھی تعمیرات کا شعبہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ لاک ڈاﺅن کے منفی اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ زیادہ عرصے تک اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں، ہماری حکومت بھی تعمیراتی شعبہ سمیت صنعتوں کو ایسی مراعات دے رہی ہے جو پہلے کبھی کسی حکومت نے نہیں دیں، ہر قسم کی مدد تعمیرات کے شعبے کو فراہم کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برصغیر میں دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں سب سے کم ہیں، ایک ماہ میں 30 روپے پٹرول کی قیمت کم کی، 15 روپے پہلے اور 15 روپے دوسری بار کم کی گئی، ڈیزل کی قیمت پہلے 15 پھر 27 روپے کم کی اس طرح ایک ماہ میں 42 روپے کی کمی گئی، ڈیزل سے کسان اور زرعی شعبے کا براہ راست تعلق ہے اور ٹرانسپورٹ بھی ڈیزل پر ہے، ہر چیز کی قیمت ڈیزل کی قیمت میں کمی سے کم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تمام چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے کہ ہر شعبہ میں قیمتیں کم کرائیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچنا چاہیے، کیروسین آئل کی قیمت میں پہلے 15 روپے اور اب 30 روپے کم کی اسی طرح ایک ماہ میں قیمت 45 روپے کم ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے مقابلہ میں برصغیر کے تمام ممالک میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہیں، پاکستان میں پٹرول 81 روپے، بھارت میں 153، بنگلہ دیش میں 170 روپے فی لیٹر ہے، ڈیزل پاکستان میں 80، بھارت میں 126 روپے لیٹر ہے، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کر کے عوام کو فائدہ منتقل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ صنعتوں کا پہیہ چلے تاکہ عوام کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں جو بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے احساس پروگرام کی کامیابی پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو مبارکباد دی اور ویب پورٹل کے ذریعے روزگار سے محروم ہونے والوں کی رجسٹریشن کے پروگرام کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے ٹائیگر فورس کے رضا کاروں پر زور دیا کہ وہ ہر یونین کونسل میں ڈیسک بنا کر روزگار سے محروم ہونے والوں کا اندراج کرانے میں مدد کریں کیونکہ ہر شخص کے لئے خود کو رجسٹر کرانا آسان نہیں ہے، اس عمل میں انہیں مدد کی ضرورت ہے اور ٹائیگر فورس کو یہ مدد کرنی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ پروگرام مکمل طور پر سیاست سے پاک ہے، اس میں پسند و ناپسند کا کوئی دخل نہیں، یہ پیسہ کسی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں مکمل طور پر میرٹ پر دیا جائے گا، میرٹ پر مستحقین کو امداد فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی حکومت نے اپنی تعمیراتی صنعت و کاروباری طبقے بالخصوص چھوٹے و درمیانی درجے کے کاروبار کے لئے اتنی مراعات و ریلیف نہیں دیا جو موجودہ حکومت نے دیا ہے، یہ پہلی حکومت ہے جو اتنا اچھا پیکج لے کر آئی ہے جس کا مقصد عام آدمی کا بوجھ کم کرنا ہے، حکومت چاہتی تو پٹرولیم مصنوات کی قیمتیں کم نہ کر کے خود بھی پیسہ بنا سکتی تھی کیونکہ موجودہ حالات میں حکومت کو بھی پیسے کی اشد ضرورت ہے لیکن ہم نے عوام کو فائدہ دیا، برصغیر میں سب سے کم قیمت پر عوام کو پٹرولیم مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کتنا عرصہ چلے گا، چھ ماہ یا ایک سال؟ ابھی کچھ نہیں جانتے، چھ ماہ یا ایک سال تک اس طرح کی صورتحال کے ساتھ رہنا پڑ سکتا ہے، اس کے لئے حکمت عملی کی ضرورت ہے اور حکومت کے ساتھ عوام کی شرکت درکار ہے، عوام نظم و ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو ہی حکومت صورتحال سے نمٹ سکتی ہے، حکومت اور عوام مل کر ہی حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھیں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں، جس کو یہ مرض لاحق ہو وہ خود کو ازخود قرنطینہ کرے، آزاد اور ذمہ دار معاشرے میں شہری خود سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، ہمیں بحیثیت قوم صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ویب پورٹل کے خدوخال اور اہم نکات کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ تین ہفتے تک رجسٹریشن کا عمل جاری رہے گا جس کے بعد جانچ پڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کے ذریعے بے روزگار افراد کو 12 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ احساس کیش پروگرام کے ذریعے 6.8 ملین خاندانوں کو 23 دن میں اربوں روپے کی امداد تقسیم کی جا چکی ہے، اس طرح کے پروگرام کی کامیابی ایک مثال ہے۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے اس موقع پر بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور شرح سود میں کمی سے بھی مہنگائی کم ہو گی، حکومت نے کاروباری طبقے کو ریلیف کی فراہمی کے لئے بھرپور معاونت کی ہدایت کی ہے اور زبردست پیکج دیئے ہیں تاکہ کورونا سے متاثر ہونے والی معاشی صورتحال میں ان کی مدد کی جا سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ، معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار بھی اس موقع پر موجود تھے۔








