پاکستان نے کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کےلئے بہتر طور پرکام کیا ،سفیراسد مجید خان

نیویارک ۔ 4 مئی (اے پی پی) امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے بڑے پیمانے پر اقدامات نے کورونا وائرس کے پھیلاو¿ پر قابو پانے میں مددکی ہے، امریکہ میں پاکستانی سفیر نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایاکہ وبائی مرض سے پیدا ہونے والا بحران بڑے غیر مناسب وقت پرآیا کیونکہ ہمارے ملک میں اقتصادی اصلاحات کی وجہ سے برآمدات میں تیزی …

نیویارک ۔ 4 مئی (اے پی پی) امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے بڑے پیمانے پر اقدامات نے کورونا وائرس کے پھیلاو¿ پر قابو پانے میں مددکی ہے، امریکہ میں پاکستانی سفیر نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایاکہ وبائی مرض سے پیدا ہونے والا بحران بڑے غیر مناسب وقت پرآیا کیونکہ ہمارے ملک میں اقتصادی اصلاحات کی وجہ سے برآمدات میں تیزی آنا شروع ہوگئی تھی ، زر مبادلہ کی شرح مستحکم ہوگئی تھی اورصنعتی سرگرمیاں بڑھ رہی تھیں تاہم اب یہ تمام چیزیں رک سکتی ہیں، لہٰذا خریداری اور برآمدات کے آرڈرز متاثر ہونے کے باعث سپلائی چین درہم برہم ہو گئی ہے۔ اتوار کو شائع ہونے والے انٹرویو میں سفیراسد خان نے کہا کہ ہم نے معقول حد تک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وائرس پر قابو پایا تاہم معاشی اثرات اب بھی بڑھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے وزیر اعظم عمران خان ترقی پذیر ممالک کے لئے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی مالی مدد کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا عالمی برادری اس بحران سے لڑنے کے لئے کافی کوشش کررہی ہے۔پاکستانی سفیر نے کہاکہ ہمارے وزیر اعظم نے تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کرنے کے لئے ایک جامع ، مربوط انداز اپنانے کی اپیل کی ہے۔ اس جامعیت سے صحت اور اقتصادی دونوں طرح کے مضمرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن اس میں زیادہ مربوط اور ممالک کی ضرورتوں کو مزید تیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس سوال پر کہ کیا کورونا وائرس سے متعلق معاملات پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر غالب آرہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت وسیع پیمانے پر اقدامات کا سہارا لیا، جیسے اندرون ملک آنے والی پروازوں اور گھریلو پروازوں پر پابندی لگانا، سکولوں کو بند کرنا، دفاتر میں روٹیشن ، تمام غیر ضروری خدمات بند کرنا، ان سب اقدامات سے اس وباءپر قابو پانے میں واضح طور پر مدد ملی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہم نے ریلوے کی بوگیوں کو وارڈز ، نیز ہوٹلوں اور اسٹیڈیمز کو قرنطین میں تبدیل کردیا تاکہ ضرورت ہو تو انہیں استعمال کریں۔ خوش قسمتی سے ہمیں ابھی تک اس کا استعمال نہیں کرنا پڑا ، لیکن اس نظام سے وبا کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیارہیں تاہم ہماری آبادی بہت زیادہ ہے اور ہمارے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی گنجائش اتنی اچھی نہیں ہے جتنا ہم چاہتے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پاکستانی معاشرتی فاصلاتی تقاضوں اور دیگر اقدامات پر عمل پیرا ہیں جس کے جواب میں سفیر خان نے کہا کہ اب وہ اس کی عادت ڈال رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی طور پر ،لوگ شاید شدت اور متعدی بیماری کے بارے میں نہیں جانتے تھے ، لیکن جیسے جیسے معاملات واضح ہو گئے ہیں پورا ملک صوبے، وفاقی حکومت ، فوج اور سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو گئی ہیں ۔ابتدائی طور پر رضاکارانہ معاشرتی دوری کے اقدامات پر عمل کرنے سے لوگ گریزاں تھے تاہم اب تمام لوگ ان نئی حقیقتوں کے عادی ہو رہے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا اس بحران سے کوئی بہترنتیجہ نکلے گا ، پاکستانی سفیر نے کہا کہ ممالک اس اور دیگر ممکنہ وبائی امراض سے نمٹنے میں سیکھ رہے ہیں اور ہوشیار ہو رہے ہیں۔ پوری دنیا کے ماہرین روزانہ کی بنیاد پر بہترین طریقوں ، تجربات ، بصیرت کا تبادلہ کرتے ہیں۔کووڈ-19 کی دائمی میراث ہی وہ صلاحیت ہوگی جس سے ہم نے ٹیلی مواصلات ، ٹیلی سیکھنے ، ٹیلی رابطوں کی دریافت کی ہے ، اور ہم نے پوری دنیا میں لوگوں تک پہنچنے کے طریقے تلاش کیے ہیں۔کچھ طریقوں سے بین الاقوامی برادری بھی اکٹھی ہو رہی ہے۔