وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو

اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کو کورونا وائرس بحران سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، وباءسے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملک کے انتہائی کمزور طبقہ کے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے اور بیرون ممالک بے روزگار ہونے والے مزدوروں کو واپس لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، حکومت پر تنقید کرنا …

اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کو کورونا وائرس بحران سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، وباءسے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملک کے انتہائی کمزور طبقہ کے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے اور بیرون ممالک بے روزگار ہونے والے مزدوروں کو واپس لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، حکومت پر تنقید کرنا آسان ہے، حکومت اکیلے وباءکا مقابلہ نہیں کر سکتی، تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہو گا، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو عوام کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں ہے، وہ عوام میں نہیں البتہ ایک لیپ ٹاپ کے سامنے ضرور نظر آئے ہیں، اپوزیشن جماعتیں ملک سے مہلک وباءکے خاتمے اور لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت نے وباءکے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا، حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں صورتحال بہتر ہے، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہمارے ملک میں کیسز ابھی اتنے نہیں بڑھے کہ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ جائے، وینٹی لیٹرز اور دیگر سامان کی قلت پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے چینلز اور اخبارات سمیت متعدد طریقوں سے عوام کو وائرس سے متعلق آگاہی فراہم کی جا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے بھی بار بار عوام سے اپیل کی ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں لیکن بدقسمتی سے لوگ وباءکو سنجیدہ نہیں لے رہے، یہ وائرس سب کا دشمن ہے اور ہمیں مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ 100 سال بعد ایسی وباءآئی ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس لئے تمام ممالک غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں، ترقی یافتہ ممالک وسائل اور مضبوط انفراسٹرکچر کے باوجود وباءکے سامنے بے بس نظر آئے ہیں اور وہاں پر بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وباءکی روک تھام کیلئے لاک ڈاﺅن حل نہیں، سندھ حکومت نے مکمل لاک ڈاﺅن کیا جس کے منفی اثرات سامنے آئے اور اب انہیں بھی سمجھ آ گئی ہے کہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہونی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے صحت کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی، کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں پر عوام کو معیاری سہولیات مہیا ہوں، اگر اپوزیشن نے ہسپتال بنائے ہیں تو ان کے قائدین علاج کیلئے بیرون ملک کیوں جاتے ہیں۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت کی نیب کے کاموں میں مداخلت ہے اور نہ ہی کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف کیسز ہم نے نہیں بنائے ، نیب آزاد ادارہ ہے اور وہ بدعنوان عناصر کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ حکومت نے وائرس کی صورتحال کو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا، ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ کا موثر نظام متعارف کرایا ہے اور ٹیسٹنگ استعداد کار کو بتدریج بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران وزیراعظم عمران خان ملک کے انتہائی کمزور طبقہ کے لوگوں کیلئے فکر مند ہیں، انہوں نے مستحق لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے تاریخی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جب اقتدار سنبھالا تو ملک دیوالیہ ہو رہا تھا، وزیراعظم عمران خان نے انتھک محنت کر کے ملک کو بحران سے نکالا، ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن تھی تاہم بدقسمتی سے کورونا بحران کی وجہ سے معیشت پر منفی اثر پڑا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ڈاکٹر فرقان کی موت افسوسناک واقعہ ہے، وزیراعظم عمران خان سے اس معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے بات کروں گا۔