جون کا آغاز کورونا کی 22 مریضوں کی موت اور 1402 نئے کیسز کی تشخیص سے ہوا ہے، وزیراعلی سندھ

کراچی۔ یکم جون (اے پی پی)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جون کے مہینے کا آغاز کورونا وائرس میں مبتلاء22 مریضوں کی موت اور 1402 نئے کیسز کی تشخیص سے ہوا ہے۔ پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 503 ہوگئی ہے اور کیسز کی تعداد 29647 ہوگئی ہے۔وزیراعلی …

کراچی۔ یکم جون (اے پی پی)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جون کے مہینے کا آغاز کورونا وائرس میں مبتلاء22 مریضوں کی موت اور 1402 نئے کیسز کی تشخیص سے ہوا ہے۔ پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 503 ہوگئی ہے اور کیسز کی تعداد 29647 ہوگئی ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ 6289 نمونوں کی جانچ کی گئی جس کے نتیجے میں 1402 کیسز سامنے آئے یعنی کیسز کی شرح 22.3 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے اب تک 187092 ٹیسٹ کئے جن میں سے 29647 کیسز کا پتہ چلا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ مزید 22 مریض کورونا وائرس کے باعث دم توڑ گئے جس سے ہلاکتوں کی تعداد 503 ہوگئی ہے جو کہ 1.7 فیصد بنتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 342 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ، ان میں سے 71 وینٹیلیٹرز پر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت کوروناوائرس کے 14554 مریض زیر علاج ہیں جن میں گھروں میں 13346 ،آئسولیشن سینٹرزمیں 113 اور 1095مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 785 مریض صحت یاب ہوئے ہیں اور اب تک صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 14590 ہوگئی ہے اور بحالی کی شرح 49.2 فیصد ہے۔کیسز کی ضلعی وار تفصیلات دیتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ 1402 کیسز میں سے 1028 کا تعلق کراچی سے ہے۔ کورنگی میں 292 ، شرقی 232 ، جنوبی 193 ، وسطی 165 ، غربی 101 اور ملیر میں 45 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گھوٹکی اور سکھر میں 46۔46 ، لاڑکانہ 38 ، حیدرآباد 25 ، میرپورخاص 21 ، شکار پور 20 ، جیکب آباد 12 ، خیرپور اور جامشورو میں8۔8 ، بدین اور سجاول میں 4۔4 ، ٹھٹھہ ، دادو اور نوشہروفیروز میں 2۔2 ، عمرکوٹ ، شہید بینظیر آباد اور کشمور۔ کندھ کوٹ میں ایک ایک کیس کا پتہ چلا ہے ۔ انہوں نے سکھر ، لاڑکانہ اور گھوٹکی کے عوام کو خبردار کیا کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں کیونکہ ان کے علاقوں میں مقامی منتقلی کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔