اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر ہمیں زیادتی اور استحصال کا شکار ہونے والی بچی زہرہ شاہ اور اس طرح کے دیگر تمام بچوں کو یاد رکھتے ہوئے اجتماعی عزم کی توثیق کرنی چاہئے، ہر بچے …
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پیغام
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر ہمیں زیادتی اور استحصال کا شکار ہونے والی بچی زہرہ شاہ اور اس طرح کے دیگر تمام بچوں کو یاد رکھتے ہوئے اجتماعی عزم کی توثیق کرنی چاہئے، ہر بچے کو اس کی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملنا اس کا بنیادی حق ہے۔ جمعرات کو وزارت انسانی حقوق کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ عالمی برادری ہر سال 12 جون کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے طور پر مناتی ہے، اس سال دنیا کو ایک بے مثل وبائی بیماری کا سامنا ہے اور اس وباءکے باعث خدشہ ہے کہ بچوں کو چائلڈ لیبر ، کمسنی کی شادیوں اور استحصال کی دیگر اقسام کے مزید خطرات پیش آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ۔19 کے باعث صحت عامہ کو لاحق خطرات کے باعث دنیا بھر میں بچوں کا تعلیم کا حق بھی درہم برہم ہو چکا ہے اور پاکستان میں اندازے کے مطابق 2 کروڑ 28 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہے، وباءکے باعث بحرانی کیفیت میں ان کے سیکھنے کے عمل پر منفی اثر ات پڑنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی کے حصول میں موجود عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وباءسے بچوں کے سکول سے محروم ہونے کی شرح پانچ گنا تک بڑھنے کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور اس وقت دنیا میں اندازے کے مطابق 15 کروڑ 20 لاکھ بچے مشقت کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں، ان بچوں میں سے 7 کروڑ 20 لاکھ بچے خطرناک نوعیت کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ برائے محنت کے مطابق پاکستان میں اندازے کے مطابق 85 لاکھ بچے مزدوری کرتے ہیں اور بچوں سے مشقت لینے میں پہلے نمبر پر زراعت کا شعبہ ہے جس میں 76 فیصد بچے مزدوری کرتے ہیں جبکہ 14.6 فیصد کے ساتھ خدمات کا شعبہ دوسرے اور 6.7 فیصد کے ساتھ صنعتی شعبہ تیسرے نمبر پر ہے جہاں بچوں سے کئی گھنٹے مشقت لی جای ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ راولپنڈی میں ایک حالیہ افسوسناک واقعے میں 8 سالہ گھریلو ملازمہ زہرا شاہ کو بے دردی سے قتل کردیا گیا، مبینہ طور پر اسکی غلطی مالک کے مہنگے طوطوں کو پنجرے سے آزاد کر نا تھی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ زہرا کے کیس نے وزارت انسانی حقوق کو بچوں کی ملازمت کے ایکٹ 1991 کے شیڈول 1 کے تحت بچوں کوو گھریلو ملازم رکھنے کو ”خطرناک کام“ قرار دینے کےلئے اہم ترمیم تجویز کرنے کی تحریک دی ہے تاکہ اس مسئلے پر قانون سازی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی وزارت پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے قوانین اور ادارہ جاتی طریقہ کار کا جائزہ لینے اور ان کو مضبوط بنانے پر کام کرتی ہے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن یو این سی آر سی اس کے اختیاری پروٹوکول ، چائلڈ لیبر سے متعلق آئی ایل او کنونشنز کی بھی توثیق کردی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ وزارت کی ہیلپ لائن 1099 پر چائلڈ لیبر سے متعلق شکایات رپورٹ کریں۔اس دن کی مناسبت سے وفاقی سیکرٹری برائے انسانی حقوق رابعہ جویری آغا نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق پاکستان میں بچوں سے مشقت کے مسئلے کی نوعیت سے واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل بچوں کو ان کے بچپن سے محروم کر دیتا ہے، ان کا مستقبل چھین لیتا ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 25-A میں دیئے گئے تعلیم کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بچوں سے مشقت کو معاشرے سے ختم کرنے کے لئے معاشی کمزوریوں اور تحفظات کو دور کرتے ہوئے استقامت، احتیاط اور جامعیت کے ساتھ کام جاری رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 23 سال میں پہلی بار انسانی حقوق کی وزارت نے یونیسف کے ساتھ مل کر چائلڈ لیبر کا ایک قومی سروے شروع کیا ہے جو دسمبر 2020ءتک مکمل ہوگا اور یہ سروے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے اور پاکستان میں بچوں کے حقوق کو محفوظ بنا نے کیلئے ہمیں واضح روڈ میپ بنانے میں مدد دے گا۔









