اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) جاری کھاتوں کے خسارہ میں 70.8 فیصد کمی جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 127 فیصد اضافہ ہوا ہے، کورونا وائرس کی وباءسے قومی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران معاشی عدم توازن کے خاتمہ کیلئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام پر عملدرآمد کے حکومتی …
جاری کھاتوں کے خسارہ میں 70.8 فیصد کمی جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 127 فیصد اضافہ ہوا ہے، اقتصادی جائزہ رپورٹ
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) جاری کھاتوں کے خسارہ میں 70.8 فیصد کمی جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 127 فیصد اضافہ ہوا ہے، کورونا وائرس کی وباءسے قومی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران معاشی عدم توازن کے خاتمہ کیلئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام پر عملدرآمد کے حکومتی اقدامات کو سراہا ہے۔ اقتصادی جائزہ رپورٹ برائے مالی سال 2019-20ءکے مطابق کوویڈ۔19 کی وباءسے قبل حکومتی معیشت استحکام کی جانب گامزن تھی جس کے نتیجہ میں جاری کھاتوں کے خسارہ میں کمی، زرمبادلہ اور شرح تبادلہ مستحکم ہوا۔ حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام پر عملدرآمد کے نتیجہ میں رواں مالی سال 2020ءمیں جولائی تا اپریل کے دوران جاری کھاتوں کا خسارہ 70.8 فیصد کم ہو کر 3.3 ارب ڈالر ہو گیا جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جاری کھاتوں کا خسارہ 11.4 ارب ڈالر رہا تھا۔ اس طرح مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے جاری کھاتوں کے خسارہ کی شرح 4.8 فیصد کے مقابلہ میں 1.5 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دوران سال ملک میں کاروباری آسانیوں کی فراہمی کے حوالہ سے پاکستان کے انڈیکس میں 28 درجے بہتری ہوئی ہے جس کی عالمی بینک نے تصدیق کی ہے۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں کی جانے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 127 فیصد اضافہ ہوا جس کے باعث ایف ڈی آئی کا حجم ایک ارب ڈالر کے مقابلہ میں 2.3 ارب ڈالر تک بڑھ گیا۔ جاری مالی سال میں کورونا کی وباءسے قبل مارچ 2020ءتک بڑے مالیاتی اشاریوں میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا مارچ 2019-20ءکے دوران بنیادی توازن میں 193.5 ارب روپے کی زائد رقم جمع ہوئی ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 463.3 ارب روپے کا خسارہ ہوا تھا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو روکنے کیلئے مالیاتی اور مالی پالیسیوں کیلئے سخت پالیسی اقدامات کئے گئے۔ حکومت نے وباءسے معاشی تحفظ اور بحالی کیلئے 1.24 کھرب روپے کے مالی بحالی پیکیج کا اعلان کیا جبکہ شرح سود میں بھی 5 فیصد کی کمی گئی جس کے نتیجہ میں شرح سود 13 فیصد سے 8 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ حکومت کے ان اقدامات کے نتیجہ میں معاشی بحالی سمیت معاشرہ کے غریب اور کم آمدنی والے طبقات کی بہتری کے ساتھ ساتھ صنعتی بحالی میں بھی مدد حاصل ہو گی۔









