وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس کوویڈ 19 ۔ سے متاثرہ مریضوں کے استعمال میں آنیوالی دوائی کی قیمت کا تعین کرنے کی منظوری ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 16 جون (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے کوویڈ 19 ۔ سے متاثرہ مریضوں کے استعمال میں آنیوالی ایک دوائی( انجیکشن remdesivir)کی قیمت کا تعین کرنے کی منظوری دی ہے، اس دوائی کی درآمد پر ڈیوٹی لاگو نہیں ہوگی، وفاقی کابینہ نے گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے حقوق کے تحفظ کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے، وزیرِ اعظم نے حکم دیا کہ مشرق …

اسلام آباد ۔ 16 جون (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے کوویڈ 19 ۔ سے متاثرہ مریضوں کے استعمال میں آنیوالی ایک دوائی( انجیکشن remdesivir)کی قیمت کا تعین کرنے کی منظوری دی ہے، اس دوائی کی درآمد پر ڈیوٹی لاگو نہیں ہوگی، وفاقی کابینہ نے گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے حقوق کے تحفظ کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے، وزیرِ اعظم نے حکم دیا کہ مشرق وسطی میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں خصوصاً مزدور اور محنت کش طبقے کو واپس لانے کے لئے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں اور اس حوالے سے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لئے این سی او سی (نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر) کی طرز پر نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے تحت اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے نمائندگان شامل ہوں گے ،کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر تعمیرات کے شعبے میں درپیش مسائل کا فاسٹ ٹریک حل یقینی بنائے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس کے آغاز میں وزیرِ اعظم نے کورونا کی صورتحال کا ملکی معیشت اور خصوصاً عام عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملکی معیشت کو استحکام فراہم کرنے کی حکومتی کوششیں متاثر ہوئی ہیں’ معاشی عمل کی روانی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نے تعمیرات کے شعبے کو تاریخی مراعاتی پیکیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے فروغ کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ جہاں معاشی عمل تیز ہو وہاں نوجوانوں کے نوکریوں کے مواقع پیدا ہو سکیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ نامساعد معاشی حالات کے باوجود حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت رواں مالی سال کے لئے بھی خاطر خواہ رقوم مختص کی ہیں تاہم بڑھتی ہوئی ترقیاتی ضروریات اس امر کی متقاضی ہیں کہ ترقیاتی عمل میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملکی مصنوعات کی بیرون ملک برآمد خصوصاً آموں ، فروٹ اور چاول کی برآمد اور ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کو برآمدات کے حوالے سے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ کورونا وائرس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کورونا کے پھیلائو کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام میں حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کوویڈ کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے حکومت کی حکمت عملی نہایت متوازن اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کورونا سے نمٹنے کا حل نہیں ہے۔ انہو ں نے کہا کہ بھارت میں لاک ڈائون کے منفی اثرات خصوصاً غریب طبقے پر پڑنے والے اثرات اور مشکلات دنیا کے سامنے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوام میں ایس او پیز پر عمل کرانے کے حوالے کابینہ اراکین متحرک کردار ادا کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس مشکل صورتحال میں گبھرانے کی بجائے حکمت کے تحت اور متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ جیسے ممالک بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لاک ڈائون کورونا کا حل نہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ مکمل لاک ڈائون کی بجائے حکومت نے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی اختیار کی ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ بھارت میں 25مارچ کو لاک ڈائون نافذ کیا گیا جس وقت 635کیسز تھے۔یکم جون تک بھارت اس امر پر مجبور ہو گیا کہ لاک ڈائون ختم کیا جا ئے۔ سخت ترین لاک ڈائون کے باوجود یکم جون کو بھارت میں کورونا کیسز کی تعداد تقریباً دو لاکھ (ایک لاکھ اٹھانوے ہزار) تک پہنچ چکی تھی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ بھارت میں لاک ڈائون کی وجہ سے 12 کروڑ لوگ اپنا روگار کھو چکے ہیں۔ آبادی کا بڑا حصہ اس وقت بھوک کا شکار ہو چکا ہے۔کابینہ کو کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے صحت کی سہولیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو کورونا کے حوالے سے استعداد کار میں اضافے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ابتدا میں ملک میں ٹیسٹ کے حوالے سے صرف دو لیبارٹریز موجود تھیں اس وقت ایک سو سات لیبارٹریاں کام کررہی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر 25 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ وینٹی لیٹرز کی تعداد کو بڑھا کر 4800کردیا گیا ہے مزید 1300کا اضافہ جلد ہو جا ئے گا۔ ملک بھر میں دو ہزار آکسیجن بیڈز کا اضافہ کیا جا رہا ہے جو جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حفاظتی کٹس کی لوکل پیداوار کے بعد اب آئندہ تین ہفتوں میں مقامی طور پر بنائے گئے وینٹی لیٹرز کی کھیپ بھی متعارف کرا دی جائے گی۔ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو پاکستان واپس لانے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے حکم دیا کہ مڈل ایسٹ میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں خصوصاً مزدور اور محنت کش طبقے کو واپس لانے کے لئے فوری طور پر اقدامات کیے جائیںاور اس حوالے سے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔کابینہ کو ملک میں پٹرول کی دستیابی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جون2019میں پٹرول کی کل سیل 617000ٹن تھی۔ اس سیل کو مدنظر رکھتے ہوئے جون 2020کے لئے 847000ٹن کا انتظام کیا گیا۔ اس وقت236000ٹن پٹرول ملک میں موجود ہے393000ٹن پٹرول کے جہاز لائن میں ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں اکاون فیصد سیل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پٹرول کی قلت کا مسئلہ بڑی حد تک حل کر لیا گیا تاہم کچھ حصوں میں بعض وجوہات کی بنا پر کچھ مشکلات کا سامنا ہے جن کو حل کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 10جون 2020کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان فیصلوں میں ہیلتھ کیئر ورکرز ، جو کورونا کے خلاف برسرپیکار ہیں، کے لئے کو رسک الائونس دینے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ اس سے ساتھ ساتھ اس اجلاس میں، الیکٹرک وہیکل پالیسی، سال 2020کے لئے ملک میں یوریا کھاد کی ضروریات کے تخمینوں اور گندم کی حکومتی سطح پر خرید کی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے گندم کی ڈیوٹی فری درآمدکے فیصلے شامل ہیں۔ملک کے بڑے شہروں (اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاورم اور ملتان) میں واقع ائیرپورٹس کے ملحقہ علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دینے کے کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے کابینہ کو بتایا گیا کہ 62 فیصد علاقوں کے لئے این او سی کا اجراء کیا جا چکا ہے جبکہ بقیہ علاقے جو کہ ائیر پورٹس سے ملحقہ ہیں ان کے حوالے سے پاکستان سول ایوی ایشن کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کثیر المنزلہ عمارات کی اونچائی کی حد کے حوالے سے نوٹیفیکیشن کا اجراء کرے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ کوروناوائرس کی وجہ سے یہ عمل قدرے تاخیر کا شکار ہوا ہے لہذا اس کی تکمیل میں کچھ مزید وقت درکار ہے۔ کابینہ نے ان وجوہات کے پیش نظر ہدایت کی کہ ائیروناٹیکل اسٹڈی 31جولائی 2020تک مکمل کی جائے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا کی صورتحال کا مقابلہ کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے1.24کھرب روپے کا معاشی پیکیج دیا گیا۔ اس پیکیج کے تحت دی جانے والی رقوم کاایک حصہ عوام اور صنعتی عمل کی روانی کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیا جا چکا ہے تاہم اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کہ اس پیکیج کے تحت دیے جانے والے فنڈز آئندہ مالی سال میں بھی اسی مقصد کے لئے بروئے کار لائے جا سکے، وفاقی کابینہ نے پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019کے سیکشن 32کے تحت کوویڈـ 19کے نام سے ایک خصوصی فنڈ کے قیام کی منظوری دی ہے۔1.24کھرب روپے کے معاشی پیکیج میں سے اب تک بچ جانے والی رقوم کو اس فنڈ میں ڈالا جائے گا تاکہ نئے مالی سال میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ رواں مالی سال کے بقیہ فنڈز بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کام آ سکیں۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خصوصاً غریب خاندانوں کے ایسے بچوں کہ جن کو گھروں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے آج فیصلہ کیا ہے کہ گھروں میں کام کرنے کی کیٹگری کو بھی ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991کے شیڈول ون کا حصہ بنایا جائے گا۔اس اقدام سے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے قانون میں موجود سقم کو دور کیا گیا ہے اور ان بچوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے جن کو ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر گھروں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اس اقدام کا اطلاق اسلام آباد کی حدود میں اور چودہ سال سے کم عمر کے بچوں پر ہوگا۔اس کیساتھ ساتھ کابینہ نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے سروے کیا جائے اور ایسے بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تاکہ ایسے بچوں کی نگہداشت اور ویلفیئر کے حوالے سے مفصل لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ وفاقی کابینہ نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا 2016) کے حوالے سے گلگت بلتستان میں پریزائیڈنگ افسر مقرر کرنے کی تجویز کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس تجویز کا قانونی حوالے سے جائزہ لیکر دوبارہ پیش کی جائے۔ کابینہ نے کوویڈ سے متاثرہ مریضوں کے استعمال میں آنیوالی ایک دوائی( انجیکشن remdesivir)کی قیمت کا تعین کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ اس دوائی کی درآمد پر ڈیوٹی لاگو نہیں ہوگی۔

مزید خبریں