پشاور۔20جون (اے پی پی)مالی سال 2020-21صحت کا سال ہے یہی وجہ ہے کہ صحت کے لئے بجٹ میں ریکارڈ اضافہ کرکے 124ارب روپے تک پہنچایا ہے اس کے علاوہ بجٹ میں کورونا کے لئے 24 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے، صوبوں کی طرف سے ضم اضلاع کے لئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت مختص 3فیصد حصے میں سے اپنا حصہ نہیں دینا قابل افسوس ہے بلاول …
صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
پشاور۔20جون (اے پی پی)مالی سال 2020-21صحت کا سال ہے یہی وجہ ہے کہ صحت کے لئے بجٹ میں ریکارڈ اضافہ کرکے 124ارب روپے تک پہنچایا ہے اس کے علاوہ بجٹ میں کورونا کے لئے 24 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے، صوبوں کی طرف سے ضم اضلاع کے لئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت مختص 3فیصد حصے میں سے اپنا حصہ نہیں دینا قابل افسوس ہے بلاول کے منہ سے ضم اضلاع کی محرومیوں کی باتیں اچھی نہیں لگتی ہے سندھ حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وعدے کے مطابق ابھی تک اپنا مختص حصہ ضم اضلاع کو نہیں دیا ہے، ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ مشکل حالات میں ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے نہ کوئی نیا ٹیکس لگایا ہے اور نہ پہلے سے لگائے گئے ٹیکس میں کوئی اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا اس سال خیبر پختون خوا نے ترقیاتی پروگرام کے لئے 318 ارب روپے مختص کئے ہیں جو سندھ کے ترقیاتی بجٹ سے کہیں زیادہ اور پنجاب کے بجٹ کے تقریبا برابر ہے۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ صحت اور تعلیم ہمیشہ سے پاکستان تحریک انصاف کے ترجیحات میں شامل رہا ہے اس لئے بجٹ میں صحت کے علاوہ تعلیم کے لئے بھی 207 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی جو تقریبا ٹوٹل بجٹ کا چوتھائی حصہ بنتا ہے۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ وزیر اعلی کی صحت کے لئے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت صحت کے نظام کو بہتر بنانے اور وسعت دینے کے لئے طبی عملےکی کمی، ساز و سامان اور دوائیں کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے حکومت صحت کے شعبے میں اقدامات کو ترجیح دے رہے ہیں جیسے صوبے کے ہر خاندان کو ایک ملین روپے تک کی بیمہ کے لئے 10ارب روپے صحت انصاف کارڈ کے لیے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ صوبے کے فلیگ شپ ہسپتالوں کے فعالیت اور بہتری کیلئے 36 ارب روپے کی خطیر رقم بھی مختص کی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے محصولات کے حوالے سے کہا کہ صوبے میں محصولات کا ہدف 49 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوش آئند بات یہ ہے کہ کے پی ریونیو اتھارٹی نے مارچ میں کورونا صورتحال کے باوجود گذشتہ سال کے مقابلہ میں 81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے پیش نظر 2020-21 کے بجٹ کو ٹیکس فری رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 200 چھوٹے کاروباروں کے لئے ٹیکس ختم کردیئے گئے ہیں۔ ہوٹلوں پر کوئی بستر ٹیکس ، 18 شعبوں کے لئے صفر پیشہ ورانہ ٹیکس ، تمام طبی پیشے اور خدمات پر صفر پیشہ ورانہ ٹیکس ہوگا۔ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں خیبر پختونخوا نے غریب دوست عوام دوست اور تاجر دوست بجٹ پیش کیا ہے اور بڑے پیمانے پر غریب اور تاجر طبقے کو ریلیف فراہم کی ہے۔ ضم اضلاع کے لئے 184 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ 96 ارب روپے ضم اضلاع میں ترقیاتی پروگرام پر خرچ کئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کا مسئلہ صرف خیبر پختون خوا کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اس لئے میں دیگر صوبوں کو اپیل کرتا ہوں کہ وہ این ایف سی میں اپنے وعدے کے مطابق ضم اضلاع کو مختص حصے میں سے اپنا حصہ ضم آضلاع کو فراہم کریں تاکہ ان کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔ اجمل وزیر نے کہا کہ صوبے میں کورونا کے پھیلاو کو روکنے کے لئے سمارٹ لاک ڈاون جاری ہے جہاں پر کیسز کی تعداد زیادہ ہے وہاں پر سمارٹ لاک ڈاون کیا جارہا ہے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے خصوصی پروازوں کا سلسلہ اب معمول کی پروازوں میں تبدیل ہوچکا ہے روانہ کی بنیاد پر اوورسیز پاکستانیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر طبی عملہ تعینات ہے۔








