مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالہ سے او آئی سی رابطہ گروپ کا ہنگامی وڈیو لنک اجلاس، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر نے کشمیر سے متعلق پاکستان کے مو¿قف کی حمایت کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، فوجی محاصرے، کالے قوانین اور لاک ڈاو¿ن کا سلسلہ فوری ختم کرے، مسئلہ کشمیر امہ کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور کوئی اس سے ہماری توجہ …

اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر نے کشمیر سے متعلق پاکستان کے مو¿قف کی حمایت کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، فوجی محاصرے، کالے قوانین اور لاک ڈاو¿ن کا سلسلہ فوری ختم کرے، مسئلہ کشمیر امہ کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور کوئی اس سے ہماری توجہ ہٹا نہیں سکتا، رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال جاننے کیلئے مبصر گروپ تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا، بھارت خطہ کے امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالہ سے او آئی سی رابطہ گروپ کا ہنگامی وڈیو لنک اجلاس پیر کو وزارت خارجہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کر رہے تھے۔ وزراءخارجہ سطح کا یہ ہنگامی اجلاس پاکستان کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ اجلاس میں کشمیر کی صورت حال اور بڑھتی ہوئی بھارتی بربریت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب ، ترکی، آذربائیجان اور نائیجیریا کے وزراءخارجہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں آزاد کشمیر کے صدر نے کشمیری عوام کے نمائندہ کے طور پر شرکت کی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے جموں و کشمیر پر رابطہ گروپ کے ہنگامی ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اہم اجلاس منعقد کرنے پر سیکرٹری جنرل او آئی سی کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مزید گھمبیر ہو چکی ہے، انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ منظم انداز سے آج بھی جاری ہے جبکہ خطہ کے امن و سلامتی کےلئے لاحق خطرات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ بھارت کی موجودہ قیادت جموں و کشمیر پر اپنا غاصبانہ اور غیر قانونی قبضہ برقرار رکھنے پر تلی ہوئی ہے۔ آر ایس ایس، بی جے پی کا مشترکہ ”ہندوتوا“ کا ایجنڈا دانستہ نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنارہا ہے اور اس مقصد کےلئے ناقابل بیان حد تک پرتشددحربے استعمال کئے جارہے ہیں تاکہ کشمیریوں کے عزم وہمت کو متزلزل کیا جا سکے۔ اپنے بنیادی حقوق خاص طورپر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کی قراردادوں میں درج حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کے خلاف طاقت کا بہیمانہ استعمال جاری ہے۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران کشمیری عوام لاک ڈاون، فوجی محاصروں، ابلاغی ومواصلاتی بندشوں، غیرمعمولی قید وبند کی صعوبتوں اور اذیتوں سے دوچار ہیں۔ یہ تمام سختیاں اور پابندیاں 5 اگست 2019ءکے بھارتی یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات کے نتیجہ میں عائد کی گئی ہیں۔ بھارتی قابض افواج کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، ظلم و جبر اوراستبداد کے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کرکے اپنے غاصبانہ قبضہ کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیرکی حقیقت کو دنیا سے چھپانے کی کوشش میں قابض بھارتی افواج کشمیری خواتین ومرد صحافیوں کو پابند سلاسل اور خوف و دہشت کے ہتھکنڈوں کا نشانہ بنارہی ہیں اور ان کی آواز دبائی جارہی ہے تاکہ اقوام عالم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم نہ جان پائیں۔ پاکستان نے بارہا نشاندہی کی ہے کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے اقدامات غیرقانونی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، عالمی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 122کی صریحا خلاف ورزی ہے وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا جس وقت کورونا کی عالمی وباءسے برسرپیکار ہے، بھارت اس موقع کو کشمیری عوام پر اپنے ظلم، جبرواستبداد کو مزید تیز کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہو ں نے کہا کہ گزشتہ 20 روز کے دوران 30کشمیری نوجوانوں کو شہید کیاگیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی خالصتا اپنی اور داخلی سطح پر ابھرنے والی مقبول عام مزاحمتی تحریک کی حقیقت چھپانے کی کوشش کررہا ہے اور اس مقصد کے لئے کشمیریوں کی اس مزاحمتی تحریک کو ”دہشت گردی“ قرار دیتاہے، اس کے لئے پاکستان کو بھی موردالزام ٹھہراتا ہے۔ اپنی اسی الزام تراشی کو ایل او سی پر ”دراندازی“ کے نام سے موسوم کرنے کا ہتھکنڈہ دہراتا ہے، سچائی چھپانے کی اس کوشش کے تحت بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باﺅنڈری پر جنگ بندی اور بلااشتعال فائرنگ میں اضافہ کر دیا ہے۔ یکم جنوری 2020ءسے اب تک بھارت نے دوطرفہ جنگ بندی کے 2003ءکے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 1440 مرتبہ اشتعال انگیزی اور فائرنگ کا ارتکاب کیا ہے۔ بھارت ایل او سی پر دانستہ عام شہری آبادی کو نشانہ بناتا ہے جس سے اب تک 13 شہری شہید اور 104 افراد شدید زخمی ہوچکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ امکان موجود ہے کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں قطعی طورپر ناقابل قبول صورتحال اور ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کےلئے بھارت کوئی ’فالس فلیگ‘ آپریشن کرے اور اس جھوٹی کارروائی کے بہانے خطہ کے امن وسلامتی کو خطرے سے دوچار کرنے کی حماقت پرمبنی کوئی مہم جوئی کرے۔ بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت کی جنگی جنون پر مبنی دھمکیوں اور زمین پر جارحانہ اقدامات کے باوجود پاکستان نے انتہائی صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان ایک اور تنازعہ نہیں چاہتا۔ تاہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے، اپنا موثر دفاع کرنے کےلئے ہم نہ صرف پرعزم ہیں بلکہ اس کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اپنی جراتمندانہ جدوجہد اور صبرواستقامت سے کشمیری پوری طرح سے یہ حقیقت ثابت کرچکے ہیں کہ کہ وہ ’ہندتوا‘ کے مذموم ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنی سرزمین سے دستبردار ہوں گے، کشمیری عوام اپنے سیاسی ومعاشی حقوق کسی کو غصب کرنے دیں گے نہ ہی کوئی ان سے ان کی منفرد شناخت چھین سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا تنازعہ فلسطین کے مسئلہ کے طرح اقوام متحدہ اور او۔آئی۔سی کے ایجنڈے پر دیرینہ ترین معاملہ ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں قابض طاقتیں عوام کو غلام بنائے رکھنے کےلئے ظلم، جبر واستبداد کے ایک جیسے ہتھکنڈوں پر کاربند ہیں۔ دونوں مقامات پر صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے اور عالمی برادری کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ پاکستان جموں وکشمیر تنازعہ میں دو ٹوک اور مسلسل حمایت کی فراہمی پر او۔آئی۔سی کو بے حد سراہتا ہے۔ ’او۔آئی۔سی‘ رابطہ گروپ نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لئے قابل قدر کام کیا ہے۔ سیکریٹری جنرل کے جموں وکشمیر کے لئے نمائندہ خصوصی کا دورہ پاکستان و آزاد جموں وکشمیر، کشمیری عوام کے ساتھ او۔آئی۔سی کی یک جہتی اور حمایت کا ایک اور بین ثبوت ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر یہ امر نہایت ناگزیر ہے کہ او آئی سی جموں وکشمیر کے پائیدار حل کےلئے اپنی کوششوں کو تیز کرے۔ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کو امت مسلمہ اور او آئی سی سے بہت زیادہ توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں۔ او آئی سی بھارت پر زور دے کہ وہ 5 اگست 2019ءکے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کو کالعدم کرے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کو استصواب رائے کا حق دے، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو فوری روکے اور او۔آئی۔سی، آئی پی ایچ آر سی، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ وادی جانے کی اجازت دے تاکہ وہ بذات خود صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ لداخ کے معاملہ پر چین کے ہاتھوں بھارت کی جو سبکی ہوئی ہے اس کی خفت مٹانے کیلئے بھارت بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کے بدترین مظالم ڈھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے شرکاءنے کشمیری عوام کے جدوجہدکی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر امہ کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور کوئی اس سے ہماری توجہ ہٹا نہیں سکتا۔رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کو بھی مسترد کیا اور مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، لاک ڈاﺅن، فوجی محاصرہ اور مواصلاتی بندش کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید خبریں