وزیرِاعظم عمران خان کا ملک میں کورونا کی صورتحال اور وائرس کی روک تھام کےلئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے حوالہ سے جائزہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے مریضوں کےلئے بیڈز اور آکسیجن کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے کئے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کورونا کی روک تھام کے حوالہ سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے بہتر …

اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے مریضوں کےلئے بیڈز اور آکسیجن کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے کئے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کورونا کی روک تھام کے حوالہ سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے بہتر نتائج موصول ہوئے ہیں، سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کےلئے مقامی رہنماﺅں اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور ٹائیگر فورس کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں ملک میں کورونا کی صورتحال اور وائرس کی روک تھام کے حوالہ سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے حوالہ سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیرِ داخلہ اعجاز احمد شاہ، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، وفاقی وزیرِ برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی سیّد فخر امام، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، فوکل پرسن برائے کوویڈ ڈاکٹر فیصل سلطان، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا کی صورتحال، ملک بھر کے ہسپتالوں میں آکسیجن بیڈ ز کی تعداد میں اضافہ کی صورتحال، آکسیجن کی طلب اور سپلائی، ملک کے بڑے شہروں کے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کے نفاذ اور عیدالاضحی کے حوالہ سے تیار کئے جانے والے ایس او پیز کے حوالے سے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیرِاعظم کو چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں کوویڈ کےلئے مخصوص بیڈز کی تعداد میں اضافہ کےلئے کی جانے والی کوششوں اور اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو چیئرمین این ڈی ایم نے بتایا کہ آئندہ ماہ کے وسط تک ملک بھر میں 2150 بیڈز کا اضافہ کرنے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ اس حوالہ سے انہوں نے صوبہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف ہسپتالوں کی جانب سے پیش کی گئی ڈیمانڈ اور اب تک بیڈز کی فراہمی کی صورتحال پر اجلاس کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار نے آکسیجن کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ ملک کے بڑے شہروں میں شناخت کئے جانے والے ہاٹ سپاٹس میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کے نفاذ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِاعظم نے بیڈز اور آکسیجن کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے کئے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی اوربین الاقوامی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کورونا کی روک تھام کے حوالے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے بہتر نتائج موصول ہوئے ہیں۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ اس حکمت عملی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کےلئے جہاں ایک طرف مقامی رہنماﺅں اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے وہاں اس حوالے سے ٹائیگر فورس کی خدمات بھی حاصل کی جائیں تاکہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر نہ صرف عوام کو سمارٹ لاک ڈاﺅنکے بارے میں آگاہی فراہم کریں بلکہ اس کے نفاذ اور اسکے مقاصد کے حصول میں انتظامیہ کی معاونت کر سکیں۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ عیدالاضحی کے پیش نظر ایس او پیز کو صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے جلد از جلد حتمی شکل دے کر ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس دفعہ عیدالاضحی غیر معمولی حالات میں منائی جا رہی ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ عوام کی حفاظت کےلئے واضح ایس او پیز جلد از جلد مرتب کرکے ان کا سختی سے نفاذ یقینی بنایا جائے۔

مزید خبریں