وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈی کے بین الاقوامی ویبینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 23 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ مسلم دنیا کے چیلنجز کا حل بیرونی انحصار کی بجائے اتحاد میں مضمر ہے، ہمیں کشمیر اور فلسطین جیسے مسئلوں پر ایک موقف اپنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈی کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شیریں مزاری …

اسلام آباد ۔ 23 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ مسلم دنیا کے چیلنجز کا حل بیرونی انحصار کی بجائے اتحاد میں مضمر ہے، ہمیں کشمیر اور فلسطین جیسے مسئلوں پر ایک موقف اپنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈی کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل دنیا کی بھرپور توجہ حاصل کرنے کے منتظر ہیں، وہاں پر ہونے والے مظالم اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے اور دنیا اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بین الاقوامی قوتوں کو ان مسائلِ کے حل پر فوری توجہ دینی ہوگی اور اس کے ساتھ مسلم ممالک کو آپس میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پوری دنیا مسئلہ کشمیر اور فلسطین کو سنجیدگی سے لے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کو ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرنا چاہئے اور دیگر اس کا احترام کرنے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس موقع پر برٹش ہاﺅس آف لارڈ کے رکن لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ ہندوستان اب ایک سیکولر ملک نہیں ہے، اس کا سیاسی نظام ہندوتوا کے نظریئے کے زیر کنٹرول ہے اور ہندوستانی حکومت کشمیر میں مسلسل جینیوا کنونشن کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خطے کے دیگر ممالک کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے اور اسی نظریہ کے تحت وہ پاکستان میں دہشت گردی کروانے میں سرگرم رہا ہے۔ اس موقع پر برٹش پارلیمنٹ کے رکن خالد محمود نے کہا کہ مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کی طرف سے مسلمانوں اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی کرنے پر ہندوستان پر اقتصادی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں تاکہ ہم متحد ہوکر اپنا بھرپور دفاع کرنے کے ساتھ اپنی بات منوا سکیں۔ اس موقع پر استبول یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہلیل ٹوکر نے کہا کہ ہندوستان کی بی جے پی کا نظریہ آر ایس ایس کا ہے اور یہ نظریہ دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت پر مبنی ایک انتہا پسندی کا فلسفہ ہے۔ ویبینار سے ترک وزیراعظم کے انسانی حقوق کے ایڈوائزری بورڈ کے رکن ڈاکٹر ہامت عر سو، مصر کی نیشنل کانسٹیٹوشن کمیٹی کے نائب صدر ڈاکٹر کمال ہلباوی، پروفیسر ڈاکٹر فرحان مجاہد اور دیگر نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

مزید خبریں