اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی)وزارت قومی صحت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوران شہریوں کےلئے ضروری ہدایات جاری کر دی گیئں ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کی وبا حساس مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے اور بیماری کا پھیلاﺅ بتدریج شدت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ تسلسل مزید جاری رہ سکتا ہے اور تسلسل کا دارومدار ہماری آئندہ کی سماجی …
وزارت قومی صحت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوران شہریوں کےلئے ضروری ہدایات جاری کر دی گیئں

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی)وزارت قومی صحت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوران شہریوں کےلئے ضروری ہدایات جاری کر دی گیئں ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کی وبا حساس مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے اور بیماری کا پھیلاﺅ بتدریج شدت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ تسلسل مزید جاری رہ سکتا ہے اور تسلسل کا دارومدار ہماری آئندہ کی سماجی اور انتظامی ترجیحات پر ہو گا۔ دوست ملک چین نے حکومت اور عوام کے باہمی تعاون سے اس مرض کو شکست دی اور جامع عوامی اشتراک سے غیر طبی ذرائع برﺅے کار لاتے ہوئے کورونا کے پھیلاﺅ کو کامیابی سے محدود کیا۔ اس بیماری کے پھیلاﺅ کے تسلسل کو روکنے کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو مناسب انداز سے رواں رکھنے کےلئے حکومت نے سمارٹ لا ک ڈاﺅن کی متوازن حکمت عملی کو اپنایا ہے۔ بطور ذمہ دار شہری ہمیں سمارٹ لاک ڈاﺅن کے مقصد کو سمجھنے اور اس پر کلی طور پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم بیماری کے پھیلاﺅ کو روک سکیں۔ یہ ہمارا معاشرتی، قومی اور سب سے بڑھ کر شرعی فریضہ ہے۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن کے ذریعے معلوم ہا ٹ سپاٹس میں موجود آبادی کو محدود کرکے کووڈ۔19 کے مزید پھیلاﺅ کو نہ صرف روکا جاتا ہے بلکہ اسے کم کیا جاتا ہے تاکہ بیماری کے تسلسل کو توڑا جا سکے۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوران شہریوں کےلئے ہدایات کے مطابق انتظامیہ کی طرف سے لاک ڈاﺅن سے پہلے24، 48 گھنٹے کا نوٹس دیا جائے گا۔ اس دوران آپ اپنی ضروری تیاریاں مکمل کر لیں اور اشیاءضرورت مناسب مقدار میں سٹور کر لیں، سرکاری اور نجی ملازمین اپنے دفاتر کو اطلاع کردیں جو کہ قانونی طور پر آپ کو چھٹی دینے کے پابند کر دیئے گئے ہیں۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن کی اطلاع موصول ہونے پر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے سے گریز کریں۔ اپنے گھروں کے اندر محدود رہیں اور ماسوائے ایمرجنسی کے باہر نکلنے سے ہز گز گریز کریں۔ اگر بوجہ مجبوری /ایمرجنسی باہر نکلنے کی ضرورت در پیش ہو، تو گھر کا ایک نوجوان اور صحت مند فرد احتیاطی تدابیر کے ساتھ ماسک پہن کر باہر نکلے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھے۔ کسی بھی صورت میں لاک ڈاﺅن علاقے سے باہر نہ نکلیں۔ جو افراد بوجہ مجبوری باہر نکلیں وہ متعین ہاٹ سپاٹ حدود سے قطعاََ باہر مت نکلیں۔ گھر کے معمر افراد، حاملہ خواتین، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابطیس کے مریضوں کا خصوصی خیال رکھیں، ان کو گھر سے باہر مت نکلنے دیں۔ جہاں تک ہو سکے ا ن کو گھر کے اند ر محدود کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ دکاندار حضرات اپنی دکانوں پر گاہکوں کے سماجی فاصلے اور ماسک پہننے کو یقینی بنائیں بصورت دیگر انکے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن والے علاقوں میں مساجد کے اندر صرف مساجد کا عملہ با جماعت نماز پڑھے۔ باقی افراد اپنے گھروں پر نماز کی ادائیگی کریں۔ امام مسجد/مو¿ذن دن کے دوران متعدد دفعہ لاﺅڈ سپیکر کے ذریعے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کریں۔ اپنے علاقے میں رضاکاروں، کمیونٹی ممبران، مساجد کے امام اور مقامی رہنماﺅں کے ذریعے ضروری سروس کی فراہمی،لوگوں کی نگہداشت اور تدابیر پر عمل کے لئے مقامی انتظامیہ سے تعاون کے عمل کو یقینی بنائیں۔ کووڈ۔19 کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اپنے مقامی رضا کار ہیلپ لائن1166پر رابطہ کریں۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن والے علاقے میں مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے تعاون کریں اور تلخ کلامی/جھگڑے سے گریز کریں۔ یہ آپ کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوران آپ کے علاقے کے ہسپتال میں OPDsبند رہیں گی، لہٰذا معمول کے چیک اپ کےلئے ہسپتال مت جائیں تاہم ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال جانے کی سہولت میسر رہے گی۔ کووڈ۔19 کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں گھر یلو ٹوٹکوں اور خود تشخیصی سے گریز کریں اور متعلقہ طبی ادارے /عملے سے رابطہ کرکے ان کی ہدایات پر عمل کریں۔ ہسپتال میں داخلے کی صورت میں غیر ضروری طور پر گھرکے افراد کو ساتھ مت لے جائیں اور ہسپتال کی ہدایات پر عمل کریں۔ کورونا وائرس وباءکے متعلق سوشل میڈیا پر موجود منفی پرو پیگنڈہ پر کان مت دھریں اور صرف مصدقہ حکومتی معلومات پر بھروسہ کریں۔ بطور ذمہ دار شہری اپنی حفاظت اوراپنے پیاروں کے بچاﺅ کےلئے حکومتی ہدایات پر عملدرآمد ہمارا قومی فریضہ ہے۔ آپ کے تعاون سے کورونا وباءکو یقینی طور پر شکست دی جا سکتی ہے۔ یاد رکھیں کہ چند دن کے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی مشکلات متعدد قیمتی جانیں بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں جن میں آپ کے قریبی افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔








