اسلام آباد ۔ 11 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اداروں میں اصلاحات کا مینڈیت ملا ہے اور یہی ہماری جماعت کا منشور ہے، پاکستان اور بدعنوانی ایک ساتھ نہیں چل سکتے، وزیراعظم عمران خان عالمی شہرت کی حامل شخصیت ہیں، ان کا موازنہ کسی بھی طور پر موروثی سیاستدانوں سے نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم …
پاکستان تحریک انصاف کو اداروں میں اصلاحات کا مینڈیت ملا ہے اور یہی ہماری جماعت کا منشور ہے، پاکستان اور بدعنوانی ایک ساتھ نہیں چل سکتے، وزیراعظم عمران خان عالمی شہرت کی حامل شخصیت ہیں، ان کا موازنہ کسی بھی طور پر موروثی سیاستدانوں سے نہیں کیا جا سکتا،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی وزیراعظم معائنہ کمیشن کے چیئرمین احمد یار ہراج کے ہمراہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اداروں میں اصلاحات کا مینڈیت ملا ہے اور یہی ہماری جماعت کا منشور ہے، پاکستان اور بدعنوانی ایک ساتھ نہیں چل سکتے، وزیراعظم عمران خان عالمی شہرت کی حامل شخصیت ہیں، ان کا موازنہ کسی بھی طور پر موروثی سیاستدانوں سے نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم معائنہ کمیشن نے اے جی پی آر کے ذریعے سرکاری خریداری میں ہونے والے بگاڑ کو سدھارنے کے لئے سفارشات مرتب کر لی ہیں۔ سرکاری خریداری جو اے جی پی آر کے ذریعے ہوتی ہے اس پر سالانہ اربوں روپے اضافی قیمت قوم کے پیسے سے ادا کرنا پڑتی ہے، اس بگاڑ کو سدھاریں گے اور جو بھی ذمہ دار ہو گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی، جب بھی احتساب اور اداروں میں اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو اپوزیشن اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لئے اکٹھی ہو جاتی ہے، اداروں میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کا احتساب ہو کر رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پی آئی ڈی میں وزیراعظم معائنہ کمیشن کے چیئرمین احمد یار ہراج کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ بدقسمتی سے ان اداروں کو دانستہ طور پر مفلوج کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے منشور کی پاسداری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اداروں میں اصلاحات اور ری سٹرکچرنگ کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں اور وزیراعظم کی تمام تر سیاسی جدوجہد اسی لئے تھی کہ اداروں میں شفافیت ہو۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے، نیپرا، پیمرا یا جتنے بھی ریگولیٹری کے ادارے ہیں ان کا فعال ہونا اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکائونٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو وہ ادارہ ہے جو تمام سرکاری خریداریوں اور ادائیگیوں کا کلیدی ادارہ ہوتا ہے اور اس ادارے کا فعال ہونا انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بالفرض ایک کھرب روپے کی خریداری ہو، ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ سو سے 200 ارب روپے اضافی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ان میں پی آئی اے، این ایچ اے، ریلوے اور دیگر بہت سے اداروں کی خریداریاں شامل نہیں اور اگر وہ بھی شامل کر لئے جائیں تو 300 سے 350 ارب روپے زیادہ ادا کرنا پڑتے ہیں اور یہ پیسہ قوم کا پیسہ ہوتا ہے، گزشتہ چند برسوں کا تخمینہ لگائیں تو پاکستان کو شاید اربوں روپے کے قرضے نہ لینا پڑتے، اسی طرح صوبائی آڈیٹر جنرل کے اداروں کا بھی ہی حال ہے، بلا وجہ رکاوٹیں بڑھا کر بدعنوانی کو بھی دعوت دی جاتی ہے اور یہ بگاڑی دیگر اداروں میں سرایت کر چکا ہے، ماضی کے حکمرانوں نے اس عمل کو اپنے مالی فائدے کے لئے مزید تحفظ اور تقویت دی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ لیکن اب ایسا نہیں ہو گا کیونکہ وزیراعظم عمران خان وہ لیڈر ہے جس کے پاس اخلاقی جرأت ہے اور اسے عوام نے مینڈیٹ بھی اداروں کو فعال بنانے کا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایسا کر کے جائیں گے کہ آئندہ کے لئے بہتری کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 ماہ میں جو اقدامات اٹھائے گئے اس حوالے سے احمد یار ہراج آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل جو اپوزیشن کی ملاقاتیں جاری ہیں، ان کا مقصد عمران خان کی ذات کو نشانہ بنانا اور اس سسٹم کو درست نہ ہونے دینا ہے کیونکہ ماضی میں وہ براہ راست اس سسٹم کے بینفشری رہے ہیں۔ وزیراعظم معائنہ کمیشن کے چیئرمین احمد یار ہراج نے کہا کہ ہم 24 انسپیکشن مکمل کر چکے ہیں، جن کی رپورٹس پیش کر دی گئی ہیں اور عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جس ادارے کے لئے یہ پریس کانفرنس کرنا پڑی وہ ہر ادارے اور ہر فرد کی دلچسپی کا ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو اخراجات کرتی ہے لامحالہ وہ عوام کا پیسہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیڈ منی سسٹم کے ذریعے سرکاری خریداریوںکی مد میں اخراجات بہت زیادہ کئے گئے اور خواہ مخواہ کے اعتراضات لگا کر معاملات کو الجھانا معمول رہا ہے، ٹیکسز ایک طرف سرکاری خریداری مہنگے داموں کی جاتی ہے اور ماضی میں حکمرانوں نے اس بگاڑی کو سلجھانے کی کوئی کوشش تک نہیں کی۔ سردار احمد یار ہراج نے کہا کہ حکومت اپنے ہی ملازمین کی کرپشن کے پیسے ادا کر رہی ہوتی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان نے جو وعدہ کیا ہے کہ ہم اداروں کو بگاڑ سے نکال کر شفافیت اور بہتری کی جانب لے کر جائیں گے، اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس محکمہ پر بھی ہاتھ رکھیں اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاق میں اے جی پی آر تمام سرکاری خریداریوں کو دیکھتا ہے اور صوبوں میں بھی اے جی پی آر کے صوبائی دفاتر معاملات کو دیکھتے ہیں اور بدقسمتی سے بگاڑ درست نہیں کیا گیا اور سپلائرکے ساتھ محکمے بھی اس بگاڑ کے ساتھ ڈھلتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی منتخب حکومت ہے جس نے اس معاملے میں ہاتھ ڈالا ہے اور چند ماہ میں ایک ایسا نظام بنا کر دیں گے جس سے بگاڑ بھی دور ہو گا اور شفافیت بھی آئے گی جس کے لئے ہم نے سفارشات مرتب کر لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سفارش کی ہے کہ وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت اب ہر خریداری کا عمل عوام کے سامنے ہو اور اس تمام عمل کو قواعد و ضوابط کے تحت اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جانا چاہیے، تاخیری حرب استعمال کر کے بدعنوانی پر اکسانے اور اخراجات بڑھاے کے عمل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بگاڑ صرف بلوں کی ادائیگیوں تک محدود نہیں بلکہ اداروں اور ان کے ملازمین کے واجبات کی ادائیگیوں میں بھی یہ بگاڑ منتقل کیا گیا ہے اور بوگس بلوں کے ذریعے اخراجات بڑھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ 21 اور گریڈ 22 کی آسامیاں ہمیشہ وزیراعظم کی منظوری سے پر کی جاتی ہیں لیکن اے جی پی آر میں یہ پوسٹ وزیراعظم کی منظوری کے بغیر دی جا رہی ہیں، اس عمل میں بھی شفافیت لانے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کو بھی کہا گیا ہے کہ ایسے افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دس سال کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ہمیں یہ قرضے نہ لینا پڑتے جو ماضی میں لئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انہی معاملات کو سدھارنا چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مونوٹائزیشن کی سہولت حاصل کرنے والے افسران گاڑیان رکھنے کے مجاز نہیں، ہم اس معاملے کی بھی تحقیقات کرائیں گے اور جلد اس کے اعداد و شمار بھی میڈیا کے سامنے پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی تمام تر جدوجہد میرٹ، شفافیت اور انصاف کے لئے رہی ہے اور ادارے درست کام کریں تو یہ خرابیاں پیدا نہ ہوں، بگاڑ پیدا کرنے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس وقت اکٹھی ہوتی ہے جب پکڑ کا خطرہ ہو، اپوزیشن کا اکٹھ صفر ضرب کے سوال کچھ نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سردار احمد یار ہراج نے کہا کہ وزیراعظم معائنہ کمیشن اب تک 24 معائنے مکمل کر کے بجھوا چکی ہے جس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ وزیر اطلاعات نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہترین حکمت عملی سے پاکستان کی حکومت نے کووڈ 19 کو کنٹرول کرنے کے لئے کام کیا اور ملک کو معاشی بحران کی کیفیت سے بھی بچایا ہے۔ دیگر ملکوں میں ہسپتالوں کے باہر مریض دیکھے گئے لیکن ہمارے ہاں الحمد اللہ صورتحال بہت بہتر رہی ہے اور ہماری قیادت اپنے امتحان میں سرخرو ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ایک بین الاقوامی شہرت رکھنے والی شخصیت ہیں، ان کا موازنہ کسی بھی صورت موروثی سیاستدانوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا، ماضی کی حکمران دونوں جماعتوں نے اپنے مالی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لئے ہر حربہ استعمال کیا، ہماری جماعت کا کردار روز روشن کی طرح سب کے سامنے ہے، اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ پاکستان اور کرپشن اکٹھے نہیں چل سکتے، ہمارا منشور پاکستان بچانا اور ان کا منشور کرپشن بچانا ہے۔








