وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر قبائلی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت نے سابقہ ( وفاق کے زیرانتطام قبائلی علاقہ جات )فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے عمل کو خصوصی اہمیت دی ہے، قبائلی عوام کو انصاف کی …

اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر قبائلی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت نے سابقہ ( وفاق کے زیرانتطام قبائلی علاقہ جات )فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے عمل کو خصوصی اہمیت دی ہے، قبائلی عوام کو انصاف کی فراہمی کے نظام کو آسان ،لیویز اور خاصہ دار فورس کے 28ہزار اہلکاروں کو پولیس میں ضم کیا گیا، فاٹا سیکرٹریٹ کو ختم کر کے صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کو بڑھایا گیا،قبائلی اضلاع میں ترقی کیلئے 10سال تک سالانہ 100ارب روپے دیئے جائینگے، فاٹا میں حالات معمول پر لانے ، امن و امان کے قیام سمیت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے 80فیصد اہداف حاصل کر لئے ہیں ،ہماری سمت درست ہے ، قبائلی علاقوں کے عوام اور فوج نے بے پناہ قربانیاں دیکر دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکا ہے ۔ وہ پیر کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ قبائلی عوام کی پاکستان کیلئے لازوال قربانیاں ہیں،وزیراعظم عمران خان کا قبائلی عوام سے قلبی تعلق ہے، فاٹا کے انضمام کا مقصد قبائلی عوام کو برابر کے حقوق دینا تھا۔انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی عمل شروع کیا گیا،قبائلی عوام کو انصاف کی فراہمی کے نظام کو آسان بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طے ہوا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے تین فیصد قبائلی اضلاع کو دیا جائیگا،امید کرتے ہیں کہ سندھ حکومت اس سلسلے میں اپنا حصہ ڈالے گی۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مستحق افراد کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا گیا، قبائلی اضلاع میں تعلیمی شعبے کی ترقی پر بھی توجہ دی گئی ہے،وسائل سے محروم طلباءکو تعلیم کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کی مشاورت سے قبائلی اضلاع میں مائننگ ایکٹ کا نفاذ کیا گیا ہے،قبائلی عوام کو قومی کے ساتھ صوبائی اسمبلی میں بھی نمائندگی حاصل ہوئی،علاقے میں بلدیاتی نظام سے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے،قبائلی اضلاع کو ملک کے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام سے مستفید ہونیوالے اصلاحات کے عمل کی مخالفت کرتے ہیں،قبائلی اضلاع میں امن و امان کے قیام میں مقامی افراد اور پاک فوج کا اہم کردار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کے ذیادہ علاقے پاک افغان سرحد سے ملتے ہیں اس لئے ان علاقوں پر سکیورٹی موثر بنائی گئی ہے ۔

مزید خبریں