اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ حکومت عوام سے کئے گئے وعدے اور اپنے منشور کے مطابق شفافیت، خود احتسابی اور بلا امتیاز احتساب کے لئے پر عزم ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے ملک کے لئے رقوم بھیجیں، ان کی حب الوطنی شکوک سے بالا تر ہے، موجودہ حکومت …
حکومت عوام سے کئے گئے وعدے اور اپنے منشور کے مطابق شفافیت، خود احتسابی اور بلا امتیاز احتساب کے لئے پر عزم ہے، سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کا اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ حکومت عوام سے کئے گئے وعدے اور اپنے منشور کے مطابق شفافیت، خود احتسابی اور بلا امتیاز احتساب کے لئے پر عزم ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے ملک کے لئے رقوم بھیجیں، ان کی حب الوطنی شکوک سے بالا تر ہے، موجودہ حکومت نے اپنے مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثوں کو پبلک کر کے مثال قائم کی۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹر شیری رحمن اور سینیٹر ربانی اور دیگر ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے قائد ایوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مشیروں اور معاونین خصوصی کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت کی اور ان اثاثوں کو عوام کے سامنے ظاہر کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بھی پارٹی کے اندر بھی شفافیت پر یقین رکھتے تھے، اس وقت پارٹی کی کور کمیٹی کے اراکین کے اثاثہ جات ظاہر کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پامانہ کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ قائد ایوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے چالیس سالہ پرانا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، عدالت نے انہیں صادق اور امین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سالہا سال تک پبلک آفس ہولڈر رہے انہوں نے آج تک اپنے اثاثے ظاہر نہیں کئے اور قوم کے جواب کی منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے انہیں سوئس اکاﺅنٹس کیس میں سوئس حکومت کو خط لکھنے کا کہا ان کے دو وزیراعظم چلے گئے لیکن انہوں نے خط نہیں لکھا۔ ماضی کے وزیراعظم دبئی کا اقامہ بھی رکھتے تھے، وزیر دفاع نہ صرف اقامہ رکھتے تھے بلکہ 20 لاکھ روپے تنخواہ بھی وصول کرتے تھے، سی پیک کو دیکھنے والے وزیر سعودی عرب کا اقامہ رکھتے تھے، اپوزیشن کے تضادات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت مثال قائم کر رہی ہے، اثاثے ظاہر کرنے کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہونا چاہیے، دوہری شہریت اور اس معاملے پر اگر قانون سازی کی ضرورت ہو تو وہ کرنی چاہیے، سائیکل پر آ کر کروڑوں کی جائیداد کے مالک بن جائیں یہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ایڈوائزر حکومت کا آئینی حق ہے، مشیروں اور معاونین کی شہریت کے حوالے سے آئین خاموش ہے، آئین میں صرف ارکان پارلیمنٹ کی بات کی گئی ہے، معاون خصوصی صرف دعوت پر کابینہ اجلاس میں شرکت کرتے ہیں، ان کے پاس صرف مشورہ دینے کا اختیار ہے اور وزیراعظم ضرورت کے مطابق ان سے مشورہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوہری شہریت رکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کی حب الوطنی پر شک کر رہے ہیں، ان کی ملک سے محبت اور حب الوطنی کا رشتہ لازوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی موجودہ صورتحال میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انہوں نے دوسرے ممالک میں محنت سے اپنا مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق بھی فیصلہ ہونا چاہیے۔








