اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت ملکی اور اپوزیشن ذاتی مفادات میں ترامیم چاہتی ہے، حکومت کسی سے بلیک میل نہیں ہوگی، اپوزیشن پاکستان کی خیر خواہ ہے تو ملکی مفاد میں قومی اسمبلی میں متعارف کرانے گئے بلز کی حمایت کرے، بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے، گرے لسٹ سے نکالنے یا رہنے …
حکومت ملکی اور اپوزیشن ذاتی مفادات میں ترامیم چاہتی ہے، حکومت کسی سے بلیک میل نہیں ہوگی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت ملکی اور اپوزیشن ذاتی مفادات میں ترامیم چاہتی ہے، حکومت کسی سے بلیک میل نہیں ہوگی، اپوزیشن پاکستان کی خیر خواہ ہے تو ملکی مفاد میں قومی اسمبلی میں متعارف کرانے گئے بلز کی حمایت کرے، بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے، گرے لسٹ سے نکالنے یا رہنے کا فیصلہ اکتوبر میں ہوگا، کسی کو رعایت دینے کا مقصد نہیں، جو کرے گا وہ بھرے گا، عمران خان 22سال سے کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے قائد سے 2013ء میں ملاقات میں مجھے وزارت خارجہ کی پیشکش کی گئی تھی۔ بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں آج نہایت اہم بلز پاس کئے گئے۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا اور وائٹ لسٹ میں لانا ہمارا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمیں بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے تاکہ ہم پر پابندیاں عائد ہوں اور پاکستان مشکلات کا شکار ہو۔ اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ٹائم بارڈ بلز پر قانون سازی کرنا درکار تھی تاکہ ہماری رپورٹ ایشیا پیسفک گروپ کو بھجوائی جا سکے اور آئندہ پلیمنری اجلاس میں پیش کی جا سکے۔ ہم نے اپوزیشن کو اس قانون سازی کی دعوت دی لیکن انہوں نے اسے نیب قانون کی ترمیم سے مشروط کیا۔ ہم نے انہیں مسودہ پیش کیا جو انہیں پسند نہیں آیا، انہوں نے جو مسودہ پیش کیا اس میں انہوں نے 34 ترامیم کا مطالبہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اس کا شق وار جائزہ لیا اگر ان کی تجاویز کو تسلیم کرتے تو احتساب کا عمل بے معنی ہو جائے گا۔ ہمارا مقصد پگڑیاں اچھالنا نہیں لیکن جنہوں نے ملک کو لوٹا ان کا احتساب ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم پارشیل احتساب چاہتے ہیں ایسا بالکل نہیں ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔ میں خواجہ صاحب سے کہوں گا کہ میں نے کل رنگ سازی نہیں کی بلکہ انہوں نے رنگ میں بھنگ ڈالی۔خواجہ صاحب میں نے قوالی نہیں کی بلکہ پکا راگ سنایا ہے۔آپ کو اپنے مفادات عزیز ہیں پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے بلیک میل مت کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں تو ان دونوں قوانین کو الگ الگ دیکھئے۔ ہم تو آج بھی انہیں دعوت دے رہے ہیں سیاست میں دروازے بند نہیں ہوتے ہم ہر معقول بات سننے کو تیار ہیں لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ 14 سال کا عرصہ نکال دیا جائے وہ پی ٹی آئی کے ووٹر اور سپورٹر کیلئے قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ 2014ءمیں آپ کے رہنما نے مجھے بلایا تھا میں گیا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں پیپلز پارٹی چھوڑ چکا تھا عمران خان کے ساتھ رابطے میں تھا۔ مجھے پی ایم ایل (ن) کی جانب سے وزارت خارجہ آفر ہوئی لیکن میں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان 22 سال سے کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم نے ان کی ساری تجاویز کو پڑھ لیا اور اس پر اعتراضات پیش نہیں کئے، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے انہیں اعتراضات کی فہرست دی، ہم نے شق وار ان کی تجاویز کا جواب دیا، اگر وہ ہمارے ساتھ بیٹھتے تو ہم انہیں پڑھ کر بھی سنا دیتے۔ کلبھوشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ بلاول بھٹو نے کل کہا کہ ہم کلبھوشن کے وکیل بن رہے ہیں تو میرے خیال میں انہیں حقائق کا علم نہیں ہے۔ ہم نے جو اقدامات کئے ہیں وہ ہم نے بین الاقوامی عدالت انصاف اور جنیوا کنوینشن کے مطابق اٹھائے۔ قونصلررسائی اور فیئر ٹرائل یہ دو شرائط تھیں جس کو ہمیں ملحوظ خاطر رکھنا تھا۔ ہندوستان کی کوشش رہی کہ وہ ہمارے خلاف آئی سی جے میں جائے اور اعتراضات اٹھائے۔ ہم نے انہیں قونصلررسائی دی لیکن بھارتی سفارتکاروں نے فرار کا راستہ اختیار کیا۔کبھی انہوں نے ملاقات کے دوران درمیان سے شیشہ ہٹانے کا اعتراض کیا تو کبھی سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی کا بہانہ بنایا۔کلبھوشن کو اپیل کا حق حاصل ہے وہ اسے استعمال کرنے کو تیار نہیں۔ ہم نے حجت تمام کی تاکہ بھارت کو آئی سی جے جانے کا بہانہ نہ ملے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بلاول بچہ ہے اسے اگر پوری طرح بریف کیا جاتا تو شاید وہ ایسی بات نہ کرتے، ہم نے کوئی رعایت نہیں دی، صرف آئی سی جے کے تقاضے پورے کئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ بلز کے حوالے سے جلدی حکومت کو نہیں تھی اپوزیشن کو بھی ان کا ادراک تھا۔ اپوزیشن نے ہمارے ساتھ بیٹھ کر چار بلز پر گفت و شنید پر اتفاق کیا، اپوزیشن کے کہنے پر ہم نے اسمبلی سیشن میں دو روز کی توسیع کی یہ سب ان کے علم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے جان بوجھ کر تاخیری حربے اختیار کئے تاکہ ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ بل کو نیب ترامیم سے مشروط کر سکیں اور بلیک میل کر سکیں۔ شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی قادیانی حکومت کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہو رہا، یہ ایک پروپیگنڈا ہے جسے ختم ہونا چاہئے۔ وزیر خارجہ نے میڈیا کے واجبات کے حوالے سے سوال پر کہا کہ میں نے کیبنٹ میٹنگ میں اس حوالے سے وزیر اعظم کے سامنے معاملہ اٹھایا وزیراعظم نے زیر التوا میڈیا بلز کی فہرستیں منگوائیں اور وزیراعظم نے سب وزارتوں سے کہا کہ پی ٹی آئی کے دو سالہ دور میں میڈیا کے پنڈنگ بلز کو کلیئر کیا جائے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ نیب میں موجود سقم کے حوالے سے ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں ہم نے اپوزیشن سے صرف یہ کہا کہ دونوں بلوں کو الگ الگ دیکھا جائے انہیں جوڑا نہ جائے۔ دونوں بلز سینٹ جا چکے ہیں، میری تمام جماعتوں کے سینیٹرز صاحبان سے گذارش ہو گی کہ وہ کل کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اسے پاس کروائیں اس کا فائدہ مستقبل میں پاکستان کو ہو گا۔








