اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورونا کی وباءکی روک تھام کے حوالے سے اﷲ کے کرم، حکومت کی درست پالیسیوں اور عوام کی جانب سے ایس او پیز پر عمل درآمد سے صورتحال بہت بہتر ہو گئی ہے، اس سلسلے میں پاکستان نے دنیا کی قوموں میں تاریخ رقم کر دی ہے، ہم نے ریاست مدینہ کی منزل …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کورونا کی وباءکے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والے ہیلتھ ورکرز کے اعزاز میں تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورونا کی وباءکی روک تھام کے حوالے سے اﷲ کے کرم، حکومت کی درست پالیسیوں اور عوام کی جانب سے ایس او پیز پر عمل درآمد سے صورتحال بہت بہتر ہو گئی ہے، اس سلسلے میں پاکستان نے دنیا کی قوموں میں تاریخ رقم کر دی ہے، ہم نے ریاست مدینہ کی منزل کی جانب راستے کا تعین کر دیا ہے۔ وہ بدھ کو یہاں ایوان صدر میں کورونا کی وباءکے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والے ہیلتھ ورکرز کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ انہیں انسانیت کی خدمت کرنے والے ورکرز کے اعزاز میں تقریب کے انعقاد پر خوشی ہوئی ہے اور وہ صدر مملکت کی حیثیت سے پوری قوم کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکرز قوم کے ہیرو ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لئے موجودہ حکومت کی حکمت عملی سے مثبت اثرات برآمد ہوئے ہیں۔ ہم نے رمضان المبارک میں تنقید کے باوجود مساجد میں ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز اور تراویح کی اجازت دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں اپنی قوم پر اعتماد ہے اور ہماری قوم نے ڈسپلن کا مظاہرہ کر کے دنیا کی اقوام میں ایک تاریخ رقم کر دی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ سب اﷲ تعالیٰ کا کرم، حکومت کی درست پالیسیوں اور قوم کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے احساس پروگرام کے تحت اس مشکل وقت میں ملک کے غریب اور نادار لوگوں کی امداد کی۔ ایک کروڑ 60 لاکھ خاندانوں کو انتہائی شفاف طریقے سے بروقت امداد پہنچائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے لئے ریاست مدینہ کی جانب راستے کا تعین کر دیا ہے۔ اپنے کردار، کام اور اصولوں کے ذریعے منزل کی جانب بڑھیں گے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے پاکستانی قوم کے جذبہ ایمانی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر مملکت کی حیثیت سے ہر شہید کی فیملی سے ٹیلیفون پر رابطہ کرتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ شہداءکے والدین ان کی قربانی پر شکر ادا کرتے ہیں اور یہ عزم ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے دیگر بچوں کو بھی شہادت کے راستے پر بھیجنے کو تیار ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ مجھے اپنی قوم کے جذبہ پر فخر ہے۔ ایسی خدمت کی مثال دنیا کی کسی دوسری قوم میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا، ہم جس راستے پر چل رہے ہیں یہ ایک عظیم قوم بننے کا راستہ ہے۔








