اسلام آباد ۔ 4 اگست (اے پی پی) غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کو غضب کرنے' کشمیریوں کی نسل کشی اور کشمیر میں ہندؤوں کی آباد کاری کیلئے بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 ۔اے کے خاتمے کے کا لے قانون کو نافذ ہوئے (آج )ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ جموں میں 61 فیصد اور وادی کشمیر میں 93 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ …
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمہ کے کالے قانون کو ایک سال مکمل اقدام کا مقصد علاقے کی مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 اگست (اے پی پی) غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کو غضب کرنے’ کشمیریوں کی نسل کشی اور کشمیر میں ہندؤوں کی آباد کاری کیلئے بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 ۔اے کے خاتمے کے کا لے قانون کو نافذ ہوئے (آج )ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ جموں میں 61 فیصد اور وادی کشمیر میں 93 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیرکو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی’ مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں ممنوع تھا’ اس آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ سرکاری نوکریوں، ریاستی اسمبلی کیلئے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف کشمیر میں پیدا ہونے والے کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔ آرٹیکل 35۔اے ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 370 کی ذیلی شق ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر میں زمین اور دوسری غیر منقولہ جائیداد خریدنے سرکاری نوکریوں، وظائف، ریاستی اسمبلی کیلئے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف اس کے مستقل باشندوں کو حاصل ہے۔ آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت، دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ دیگر اہم معاملات پر قانون سازی کیلئے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی مرہون منت ہے’بھارت نے ایک بار پھر اپنی ہٹ دھرمی کو جاری رکھتے ہوئے 6 اگست 2019 ء کومودی سرکار نے کشمیریوں کے حقوق کو غصب کرنے کیلئے بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 ۔اے کو ختم کر دیا، جس کی روسے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور وادی کا ریاستی درجہ ختم کر دیا گیا’ اب غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی آئین کا اطلاق ہو گیا۔ اس آرٹیکل کے خاتمے کیلئے مرکزی حکومت نے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی جو کہ بھارت کی سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی صریحاً خلاف ورزی تھی’ جموں و کشمیر اور لداخ کے امور براہ راست وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کے پاس آ گئے’ اس آرڈر کے تحت کشمیر کی قانون ساز کونسل کو ختم کر دیا گیا’ صدارتی حکم کے تحت مقبوضہ کشمیر کا الگ ریاست کے درجہ ختم کر دیا گیا۔ جموں کشمیر کا الگ جھنڈا ختم ہو گیا ا ور خواتین کے متعلق روایتی قوانین کا اطلاق پھر غیر موثر ہو گیا’بھارت کے دیگر حصوں شہریوں کو کشمیر میں جائیداد خریدنے کی اجازت دے دی گئی’ اس صدارتی آرڈر کے پیچھے جو بدنیتی چھپی ہوئی ہے وہ مقبوضہ کشمیر میں مقامی آبادی کی عددی برتری کو ختم کرنا ہے’ یہ ہوبہو وہی ماڈل ہے جو فلسطین پر قبضہ کرنے کیلئے صہیونیوں نے اپنایا تھا’ شق ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے، کیونکہ بڑی تعداد میں غیرمسلم آبادکار کشمیر میں آباد ہوجائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔ اس قانون کے خاتمے کا مقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کے باہر سے شدت پسند ہندوؤں کو وہاں لا کر بسایا جائیگا جس سے چند سال میں آبادی کا تناسب بری طرح بگڑ سکتا ہے لہٰذا مسلمان اکثریت اقلیت میں بدل جائے گی۔








