کشمیر دنیا کا سب سے طویل تنازعہ، خطرناک فلیش پوائنٹ اور سب سے بڑا فوجی علاقہ بن چکا ہے ،کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمشنر رضا بشیر تارڑ کا ویڈیو سیمنار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی) کینیڈا میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر رضا بشیر تارڑ نے کہا ہے کہ کشمیر دنیا کا سب سے طویل تنازعہ، خطرناک فلیش پوائنٹ اور سب سے بڑا فوجی علاقہ بن چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو بھارتی غیر قانونی جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ویڈیو سیمنار(ویبنار) سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ہائی کمشنر نے …

اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی) کینیڈا میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر رضا بشیر تارڑ نے کہا ہے کہ کشمیر دنیا کا سب سے طویل تنازعہ، خطرناک فلیش پوائنٹ اور سب سے بڑا فوجی علاقہ بن چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو بھارتی غیر قانونی جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ویڈیو سیمنار(ویبنار) سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ جب سے بھارتی فورسز نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اس وقت سے بھارتی حکومت اور اس کی ایجنسیوں نے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں فوری طور پر فوجی محاصرہ ختم کرنے اور 5 اگست کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو منسوخ کرنے پر زور دے اور نئی دہلی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کی پاسداری کرتے کا پابند بنانے۔ہائی کمشنر نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو ختم کرنے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں ، مبصرین اور بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ جموں و کشمیر تک رسائی کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔رضابشیر نے سلامتی کونسل کے قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے پاکستان کی مسلسل سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ وادی میں اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور یو این قراردادوں کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کو ایک سال مکمل ہوا ہے اور اب غیر قانونی زیر تسلط علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے نئے ڈومیسائل قوانین سمیت اپنے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کے لئے اضافی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ قیادت نے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق خصوصا حق خود ارادیت کو بے دردی سے روندتے ہوئے مقبوضہ وادی میں غیرقانونی قبضہ کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ کویڈ 19 وبائی مرض کی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی افواج نے مقبوضہ علاقے میں غیر انسانی کریک ڈاو¿ن اور فوجی محاصرے کو مزید تیز کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جعلی مقابلوں میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل، برادریوں کو اجتماعی سزا دینے کے لیے کشمیریوں کے مکانات کو جلا دینا اور لوٹ مار اور نہتے پرامن مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کا اندھا دھند استعمال معمول بن گیا ہے۔ کینیڈا کے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں سمیت ڈاکٹر ظفر بنگش، کیرن روڈ مین، فرید خان، ڈاکٹر فوزیہ علوی، ڈاکٹر شبانہ حیدر اور فرحان مجاہد نے بھی ویبنار میں حصہ لیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے متعدد پہلوو¿ں کو اجاگر کیا۔