بڑے بحرانوں سے نکل آئے ہیں، کسی کو این آر او نہیں دیں گے، کپتان کریز پر جم چکا ہے، اب لمبی اننگ کھیلے گا وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقی ،اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے سیاسی مخالفین پر واضح کیا ہے کہ کپتان کریز پر جم چکا ہے، عمران خان اب لمبی اننگ کھیلے گا، وزیراعظم بڑے بحرانوں سے نکل آئے ہیں، عمران خان دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کیلئے این آر او دینے کو تیار نہیں، کسی کو این آر او …

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے سیاسی مخالفین پر واضح کیا ہے کہ کپتان کریز پر جم چکا ہے، عمران خان اب لمبی اننگ کھیلے گا، وزیراعظم بڑے بحرانوں سے نکل آئے ہیں، عمران خان دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کیلئے این آر او دینے کو تیار نہیں، کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو حکومت کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کیا ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ عمران خان 22 سال کی جدوجہد کے بعد وزیراعظم بنے اور ایک لمبی اننگز کھیلنے کیلئے پرعزم ہیں، اس وقت پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہورہا ہے جو کامیاب حکمت عملی سے کورونا وائرس کی وبا سے موثر انداز میں نبرد آزما ہوئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ نیشنل کنٹرول اینڈ آپریشن سنٹر(این سی او سی) کے پلیٹ فارم پرمشاورت سے فیصلے کئے گئے،کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے معیشت پر دبائو آیا۔اسد عمر نے کہا کہ ہم نے روزگار کے تحفظ اورمالی امداد کی بروقت فراہمی کے اقدامات کئے، ایک مربوط طریقے سے ملک کی سیاسی اکائیوں اور طبقات کو ساتھ لے کرچلے، وبا سے متعلق تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کئے گئے ۔اسد عمر نے کہا کہ حکومت نے ثابت کیا ہے کہ ملکی مفاد میں سب کو ساتھ لے کر چلیں گے،کمزور ترین طبقات کی مدد عمران خان کا مشن ہے، عمران خان نے لاک ڈائون میں بھی غریب لوگوں کو زیادہ اہمیت دی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ اگر گذشتہ دو ہفتے کے دوران آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں کووڈ19- سے شرح اموات 4گنا، بھارت میں 12 گنا اور ایران میں 20 گنا زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مارچ تا جولائی 2020ء کے دوران پاکستان ،بنگلہ دیش اور بھارت کی برآمدات کا جائزہ لیا جائے تو بنگلہ دیش کی برآمدات 31فیصد جبکہ بھارت کی 33 فیصد اور پاکستان کی برآمدات 20 فیصد کم ہوئی ہیں۔ اس طرح پاکستان کو ایک تہائی کم معاشی نقصان ہوا ہے ،کورونا وائرس سے معیشت کے علاوہ صحت کے شعبے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت کی گذشتہ دو سال کے دوران کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وزیراعظم عمران خان کا واضح وژن نظر آتا ہے کہ حکومت کا کام ملک کے کمزور ترین طبقات کی مدد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک میں اشرافیہ چند خاندانوں کی سہولت کیلئے فیصلہ سازی کرتی ہیں لیکن وزیراعظم نے پہلے دن سے ہی واضح ہدایت کی تھی کہ کمزور طبقات کو ریلیف دیا جائے جس کی وجہ سے حکومت کی اولین ترجیح عوام کا ریلیف تھا۔ اس حوالے سے بروقت فیصلے کئے گئے۔ انہوں نے کہ کورونا وائرس کی وبا سے معیشت پر دبائو آیا اوراس دوران حکومت نے بہترین کارکردگی کامظاہرہ کیا اورتمام محکموں اور شراکتداروں نے بروقت اقدامات کئے کیونکہ حکومت کی اولین ترجیح پسماندہ طبقہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مالیاتی خسارہ پرکامیابی سے قابو پایا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو ساتھ لے کر کام نہیں کرتے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم این آر او دے کر دوسروں کو کبھی بھی ساتھ نہیں ملائیں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم ریاست کے تمام اداروںکو ساتھ لے کر چلے اور سب کو معلوم ہے کہ کووڈ19- کی وبا کے دوران ریاست کے تمام اداروں اورملک کی تمام اکائیوں نے مل کر کام کیا، وزیراعظم چارمختلف سیاسی جماعتوں کے وزراء اعلیٰ کوبھی ساتھ لے کرچلے اور تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کئے گئے ، عمران خان کی حکومت نے ثابت کیا کہ ملک کے فائدہ کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کہا گیا ہے کہ کووڈ19- سے مقابلہ کیلئے پاکستان سے سیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دستیاب ڈیٹا ، سائنس و ٹیکنالوجی اور تجزیہ کی بنیاد پر فیصلے کئے اور پاکستان نے ٹیکنالوجی کے استعمال اور سیاسی مشاورت کے مظاہرہ سے اپنی اہلیت کو دنیا بھرمیں ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی 22 سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کے وزیراعظم کے وژن کے تحت انشاء اللہ مستقبل میں بھی پاکستان کی منازل طے کرتا رہے گا۔