مظفرآباد (21 اگست اے پی پی)وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی صدارت میں پشتینی اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس، اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری قانون، ممبر بورڈ آف ریونیو ، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو اور دیگر حکام کی شرکت، اجلاس میں سٹیٹ سبجیکٹ اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ کے لئے موجود قانون پر سختی سے عمل …
وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی صدارت پشتینی اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

مزید خبریں
مظفرآباد (21 اگست اے پی پی)وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی صدارت میں پشتینی اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس، اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری قانون، ممبر بورڈ آف ریونیو ، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو اور دیگر حکام کی شرکت، اجلاس میں سٹیٹ سبجیکٹ اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ کے لئے موجود قانون پر سختی سے عمل درآمد ، مہاجرین کے سٹیٹ سبجیکٹس اور ڈومیسائل کے سلسلہ میںقواعد پر سختی سے عمل درآمد ، غیر مہاجر افراد کے اخراج اور جعلی پشتینی اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس بنوانے والے افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ، اجلاس میں سیکرٹری قانون نے بریفننگ دیتے ہو ئے بتایا کہ مہاجرین کے حوالے سے آئین و قانون بہت واضح ہیں آئین کے اندر مہاجر کی تعریف کی گئی ہے مہاجرین کی تین کیٹیگریز ہیں ۔مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مہاجرین 1947جن کی جائیدادیں آزاد کشمیر میں موجود ہیں یا انھوں نے آزاد کشمیر میں جائیدادیں خریدی ہیں یا الاٹ کرائی ہیں وہ مہاجریں مقیم پاکستان کی تعریف میں نہیں آتے اور نہ ہی وہ قانون کے تحت مہاجر نشستوں پر الیکشن لڑ سکتے ہیں ۔ ایسے مہاجرین جس ضلع میں جائیداد رکھتے ہیں وہ اسی ضلع کے شہری ہیں۔ماسوائے مہاجرین کشمیر 1989کے، اس حوالے سے قانون بہت واضح ہے۔ اگر قبل ازیں اس قانون کے خلاف ایسے ہوتا رہا ہے تو غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ مہاجرین کے پشتینی اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کے حوالے سے جو قانون ہے اس پر عمل درآمد سے غیر مہاجر افراد کا مہاجر لسٹوں سے اخراج ممکن ہو گا اور مہاجرین کے کوٹے سمیت ان کے دیگر حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔ غیر مہاجر افراد مہاجرین مقیم پاکستان کے نام پر جعلی ڈومیسائل بنوا کر حقیقی مہاجرین کی حق تلفی کرتے ہیں۔ ان کے خلاف سخت کارروئی کی جائے گی۔ اور ایسے افراد کے ڈومیسائل اور سٹیٹ سبجیکٹ منسوخ کئے جائیں گے۔ قانون کے تحت پاکستان و آزاد کشمیر میں جائیدادیں رکھنے والے دوہرے سٹیٹس سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ آئین کے تحت مہاجرین مقیم پاکستان اور متاثرین منگلا ڈیم جو پاکستان میں مقیم ہیں وہی مہاجر کی تعریف میں آتے ہیں اور وہی مہاجر حلقوں سے الیکشن لڑنے کے اہل ہیں۔ آزاد کشمیر کے اندر جائیدادیں رکھنے والے مہاجر نہیں اور نہ ہی وہ مہاجرین کی نمائندگی کا حق رکھتے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے اندر مہاجرین سے متعلق آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرایا جائے گا۔ مہاجر کون ہے اور کتنے عرصہ تک مہاجر رہ سکتا ہے یہ آئین میں واضح ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر بھر کے انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ وہ سٹیٹ سبجیکٹ اور ڈومیسائل کے اجراء کے وقت تمام قانونی تقاضے پورے کریں تاکہ کوئی جعل سازی نہ کر سکے اور کسی کی حق تلفی بھی نہ ہواور نہ کسی سے زیادتی ہو، سٹیٹ سبجیکٹ اور ڈومیسائل کے لئے قانونی پراسیس کو ہر حال میں پورا کیاجائے۔ ایسے افراد جو دھوکہ دھی کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مہاجرین کی حق تلفی کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ آئین میں مہاجرین کی تعریف کر دی گئی ہے کہ مہاجر کون ہے اور مہاجرین کی نمائندگی کون کر سکتا ہے اس حوالے سے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔تا کہ مہاجریں مقیم پاکستان ، مہاجرین کشمیر 1989اور متاثرین منگلا مقیم پاکستان کی حق تلفی نہ ہواور ان کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو ۔








