اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) پر زور دیا کہ وہ مذہب اور مذہب کی بنیاد پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لئے فیکٹ فائنڈنگ مشنز کی تعیناتی کرے۔ مذہب کی بنیاد پر مظالم کے خلاف منائے جارہے عالمی …
مذہب اور مذہب کی بنیاد پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لئے فیکٹ فائنڈنگ مشنز کی تعیناتی کی جائے، شہریار خان آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) پر زور دیا کہ وہ مذہب اور مذہب کی بنیاد پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لئے فیکٹ فائنڈنگ مشنز کی تعیناتی کرے۔ مذہب کی بنیاد پر مظالم کے خلاف منائے جارہے عالمی دن کے موقع پر کشمیر کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہریار خان آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی آر) کی مقبوضہ کشمیر میں ہندتوا حکمرانوں کے مظالم کے بارے میں 2018 اور 2019 میں جاری کی گئی رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ اور او آئی سی فیکٹ فائنڈنگ مشنز مرتب کرکے ان جرائم میں ملوث افراد اور گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے. شہریار آفریدی نے کہا کہ کشمیر میں جاری خونریزی اور مذہبی تشدد کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بارے میں مسلم دنیا کی پراسرار خاموشی افسوسناک ہے. آفریدی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے پوری دنیا کے مسلمان اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں اپنے بھائیوں کے لئے آواز اٹھائیں جو بھارتی فاشسٹ حکومت کے ہاتھوں تکلیفیں برداشت کررہے ہیں۔شہریار آفریدی نے کہا کہ ہندوستان کے ہندوتوا حکمران نے بار بار کشمیر میں اکثریتی مسلم آبادی پر تشدد کا نشانہ بنایا ہے ، مساجد کو تالا لگایا ہے ، مذہبی تنظیموں پر پابندی عائد کردی ہے اور ایک ڈبل لاک ڈاو¿ن کے تحت اجتماعات پر پابندی عائد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ہندوو¿ں کو ڈومیسائل دینا اور انہیں کاروبار کے لئے زمینیں دینا بھی مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے خلاف مذہبی تشدد کا ایک اقدام ہے جو کشمیر یوں کی معاشی بندش کے منصوبے کا حصہ ہے. انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی قیادت کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانا ہوگا۔ آفریدی نے کہا کہ عالمی مسلم رہنماو¿ں کو روایتی بیانات سے آگے بڑھ کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مذہب اور اعتقاد پر مبنی تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947 سے پہلے ڈوگرہ ہندوو¿ں کے ہاتھوں کشمیریوں کو نشانہ بننا پڑا جنہوں نے مسلم کشمیریوں پر ناقابل برداشت تشدد کیا، اسلامی رسومات پر پابندی عائد کی، انہوں نے مساجد پر حملہ کیا ، اور انہیں گوردواروں میں تبدیل کردیا۔ مہاراجہ کی ڈکٹیٹرشپ کی ‘خلاف ورزی’ کرنے والوں کو پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد ، آر ایس ایس کے غنڈوں کی سربراہی میں ہندو دہشت گردوں نے جموں میں 3 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مساجد کو جلایا گیا تھا اور کچھ کو مندروں میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ ایک ملین سے زیادہ افراد اپنے عقائد کی بناءپر پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ تب سے جموں و کشمیر کے مسلمان ہمیشہ ہی مظالم کا نشانہ رہے ہیں۔شہر یارآفریدی نے کہا کہ بھارتی ریاست غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں آر ایس ایس کے گماشتوں کو مدد فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مساجد ہفتوں کے لئے بند رہتی ہیں ، عید کی نمازوں کی اجازت نہیں ہے ، مذہب سے متعلق سیمینار پر پابندی ہے۔ سری نگر میں جامع مسجد ہندوستانی فاشسٹ حکومتوں کا بنیادی ہدف رہا ہے۔ 5 اگست 2019 سے ، صرف دو بار اجتماعی نماز جمعہ میں ہی جانے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2016 میں مسجد کو مسلسل 18 جمعہ کے لئے بند کیا گیا تھا۔ تقریب سے دیگر سیاسی و مذہبی لیڈرز نے بھی خطاب کیا۔








