کوویڈ۔19 کی وباسے صحت کی خدمات میں تعطل سے لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں جبکہ کوویڈ۔19 کی وبا بچوں کی شرح اموات میں کمی کی پیشرفت کو ختم کرسکتی ہے، اقوام متحدہ

پیرس۔ 9 ستمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ نے عالمی برادری کو خبردارکیا ہے کہ کوویڈ۔19 کی وباسے صحت کی سہولیات میں تعطل کے باعث لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں جبکہ کوویڈ۔19 کی وبا بچوں کی شرح اموات کم کرنے میں کئی دہائیوں کی پیشرفت کو ختم کرسکتی ہے ۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ پچھلے 30 سال میں قبل از وقت پیدائش اور نمونیا …

پیرس۔ 9 ستمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ نے عالمی برادری کو خبردارکیا ہے کہ کوویڈ۔19 کی وباسے صحت کی سہولیات میں تعطل کے باعث لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں جبکہ کوویڈ۔19 کی وبا بچوں کی شرح اموات کم کرنے میں کئی دہائیوں کی پیشرفت کو ختم کرسکتی ہے ۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ پچھلے 30 سال میں قبل از وقت پیدائش اور نمونیا سمیت بچوں کی اموات کی وجوہات کی روک تھام یا ان کے علاج میں نمایاں پیش قدمی دیکھنے میں آئی تھی۔ یونیسیف ، عالمی ادارہ صحت اور ورلڈ بینک گروپ کے شائع کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں عالمی سطح پرکم عمری کی اموات کی کم ترین شرح رہی۔ 1990ء میں سوا کروڑ بچے قابل علاج بیماری کے باعث لقمہ اجل بنے تھے جبکہ 2019ء میں یہ تعداد اس کے نصف سے بھی کم یعنی تقریباً 52 لاکھ تھی ۔ رپورٹ میں عالمی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا کی جاری عالمی وبا اس حوالے سے تمام تر پیشرفت کو ریورس کرسکتی ہے۔ 77 ممالک میں یونیسیف کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 68 فیصد کم عمر بچوں کوطبی معائنے اور حفاظتی ٹیکوں میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فور کا کہنا ہے کہ کوویڈ۔ 19 کی موجودہ صورتحال نے غریب و متوسط ممالک کے قومی انفراسٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا اور اس وقت وہاں بچوں اور ماؤں کو صحت سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بچوں کی اموات کی روک تھام اور وبا کے خاتمے کے سلسلے میں فوری سرمایہ کاری کرنا ہوگی بصورت دیگر نوزائیدہ بچوں سمیت پانچ سال سے کم عمر کے لاکھوں بچے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال نسبتاً سستی ہونے کے باعث جانیں بچانے کی شرح بڑھائی جا سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پیشہ ور دایہ کے ذریعہ دیکھ بھال کے نتیجے میں نومولود بچوں کے ضائع ہونے کا امکان 16 فیصد کم ہوتا ہے جبکہ 24 فیصد کی پیدائش قبل از وقت ہوجاتی ہے۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ذریعے رواں سال کے اوائل میں کروائے گئے ماڈلنگ میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوویڈ۔19 کے حوالے سے صحت عامہ میںرکاوٹیں دور نہ کی گئیں تو تقریباً ایک ہزار بچوں کی اوسطاً یومیہ اموات ہو سکتی ہیں۔ سروے کے مطابق سات ممالک میں گزشتہ سال بچوں کی شرح پیدائش 1000جبکہ شرح اموات 50 سے زیادہ تھی۔یونیسف کے مطابق افغانستان میں ہر 17 میں سے ایک بچے کواپنی پانچویں سالگرہ نصیب نہیں ہوتی۔ ں ۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن کے شعبہ اقتصادی و سماجی امور کے ڈائریکٹر جان ولیموت نے کہا ہے کہ دنیا نے گذشتہ 30 سال میں بچوں کی شرح اموات کم کرنے کے سلسلے میں نمایاں پیشرفت کی ہے ۔