اسلام آباد ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کےلئے تحقیق اور مکالمے پر مبنی قانوں سازی ناگزیر ہے، موجودہ پارلیمان میں تحقیقی مقصد کےلئے قائمہ کمیٹیوں میں محققین اور ماہرین تعلیم کو مدعو کیا جاتا ہے اور ان کی آراءکو قانون سازی اور پالیسی سازی میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا ”ماحول کو محفوظ بنانے کےلئے شراکت داری“ کے موضوع پر منعقدہ مکالمے کے شرکاءسے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کےلئے تحقیق اور مکالمے پر مبنی قانوں سازی ناگزیر ہے، موجودہ پارلیمان میں تحقیقی مقصد کےلئے قائمہ کمیٹیوں میں محققین اور ماہرین تعلیم کو مدعو کیا جاتا ہے اور ان کی آراءکو قانون سازی اور پالیسی سازی میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے زیر اہتمام بدھ کو ”ماحول کو محفوظ بنانے کےلئے شراکت داری“ کے موضوع پر منعقدہونے والے مکالمے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مکالمے میں سکالرز، محققیں ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہمیں اپنی ذات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو ماحولیاتی تبدیلیوں سمیت کئی چیلنجز درپیش ہیں جس سے نمٹنے کےلئے ہمیں ایک قوم بن کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ریسرچر اور ماہرین تعلیم دنیا کے بہترین ہیں اور دنیا ا±ن کی صلاحیتوں کی معترف ہے تاہم دنیا میں ہماری کو یونیورسٹوں کو ٹاپ لسٹ میں لانے کےلئے مزید محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور میں خیبر پختونخوا میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی چیلنجز سے نمبرد آزما ہونے کےلئے بہت کام کیا گیا جس کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے ملک کو درپیش مسائل کو پارلیمنٹ کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے پارلیمان میں زراعت کے شعبے کی ترقی اور اس کو درپیش مسائل کے حل کےلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ماہرین تعلیم اور محققین کے ساتھ مل کر زرعی شعبہ کی ترقی اس شعبہ کو درپیش مسائل کے حل کےلئے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کے لیے رپورٹ مرتب کر رہی ہے۔ علاوہ ازین پڑوسی ممالک خصوصاً افغانستان اور چین کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کےلئے بھی پارلیمانی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سپیکر اسد قیصر نے اس مکالمے کے انعقاد کے سلسلہ میں قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئر پرسن منزہ حسن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہا رکیا کہ یہ مکالمہ نتیجہ خیز ثابت ہو گا اور ملک کو درپیش موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے ایک جامع پالیسی وضع کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی منزہ حسن نے مکالمہ کے شرکاءکا شکریہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی ماہرین تعلیم اور ریسرچر کے ساتھ پارٹنرشپ کوفروغ دینے کے لئے پر عزم ہے اور آئین پاکستان بھی اس پارٹنر شپ بنانے کے لئے پارلیمنٹری کمیٹیوں کو خاص مقام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیاں عوام اور اداروں کے درمیان فاصلون کو مٹاکر ایسے فورم کا کردار ادا کر سکتی ہیں جوعوام کی آراءپر عمل درآمد کرا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک بہت سنگین مسئلہ ہے جو ہماری عوام کی زندگیوں کو نہ صرف متاثر کررہا ہے بلکہ مستقبل میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر اور مو¿ثر قانون سازی اور اداروں کے ساتھ تعاون سے عوام کے لئے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کےلئے کمیٹی کے ساتھ ریسرچر اور اکیڈیمیا کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے ملک کو درپیش چیلنجز کو ا±جاگر کرتے ہوئے ان کے حل کےلئے مثبت تجویز دیں۔ انہوں نے کہا کہ مو¿ثر قانون سازی کے ذریعے ملکی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہےتاہم انہوں نے قانون کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے کہا۔ انہوں نے ریسرچر اور ماہرین تعلیم کے نمائندوں نے قانون سازی اور عوامی وفلاح بہبود کےلئے وضع کی جانے والی پالیسیوں کےلئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔








