اسلام آباد۔ 13 ستمبر(اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے صبر کا امتحان لینا چھوڑ دے ، اگر اس نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی اور قتل عام بند کر کے خطہ میں اکھنڈ بھارت بنانے کا زہریلا ایجنڈہ ترک نہ کیا تو پاکستان اور آزاد کشمیر عسکری جواب دینے سمیت تمام محاذوں پر اپنی دفاعی پالیسی …
صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا جناح انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام کشمیر ویبی نار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 13 ستمبر(اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے صبر کا امتحان لینا چھوڑ دے ، اگر اس نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی اور قتل عام بند کر کے خطہ میں اکھنڈ بھارت بنانے کا زہریلا ایجنڈہ ترک نہ کیا تو پاکستان اور آزاد کشمیر عسکری جواب دینے سمیت تمام محاذوں پر اپنی دفاعی پالیسی کو جارحانہ پالیسی میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ یہ بات اُنہوں نے جناح انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام کشمیر ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ ”کشمیر کا مستقبل ، کثیر الاقوامی نظام اور علاقائی امن“ کے موضوع پر ہونے والی اس ویبی نار سے جناح انسٹیٹیوٹ کی صدر سینیٹر شیریں رحمان ، سابق مشیر خارجہ طارق فاطمی ، برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے نامور صحافی افتخار گیلانی ، بھارت کے ممتاز تجزیہ نگار ستیندرہ کلکرنی سمیت کئی دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کا قتل عام کرنے اور اُن کی لاشوں پر ہندو توا کی سلطنت قائم کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں ورنہ اُن کا حشر بھی جنگ عظیم دوئم کے بعد ہٹلر کے ساتھیوں ، مسولینی اور یوگو سلاویہ کی جنگ میں جنگ جرائم کے مجرم رتکو ملازو وچ سے مختلف نہیں ہو گا جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں جنگی ٹر بیونل کے سامنے مجرم بن کر پیش ہونا پڑا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم بھارت کو با ر بار خبردار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھ کر خطہ کے امن و سلامتی سے کھیلنے کا سلسلہ بند کرے کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارتی پالیسیوں کے خلاف پاکستان ، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کو سیاسی قوتیں اور سیاسی جماعتیں کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہیں رکھا جا سکتا ۔ اُنہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل اب بھی عملی اقدامات اُٹھا کر خطہ کو جنگ و تباہی سے بچا سکتی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ سلامتی کونسل اپنے پانچ مستقل ارکان کے تابع اثر کوئی بھی قدم اٹھانے سے قاصر ہے ۔ لیکن ہم اس کے باوجود سلامتی کونسل پر مسلسل زور دیتے رہیں گے کہ وہ خطہ میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنا کردار ادا کرے ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی ، بے گناہ انسانوں کے قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے باوجود یہ گمان کیے بیٹھا ہے کہ عالمی برادری اس کے ان جرائم پر خاموش رہے گی اور اُسے استثنیٰ ملتا رہے گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھارت کا ہاتھ روکے اور اُسے تباہی کار استہ ترک کرنے پر مجبور کرے ۔ کانفرنس کے شرکاءکی تقاریر کے مختلف نکات کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اعتماد سازی کے اقدامات ایسے وقت میں کیسے ممکن ہیں جب بھارت کی نو لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہے اور کشمیریوں کی زمین اُن سے چھینی جا رہی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت نے بات چیت اور گفت شنید کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اس لیے پاکستان جب میز کی دوسری طرف کوئی بیٹھا ہی نہیں تو کسی سے بات اور مذاکرات کرے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کے حکمرانوں کے جنگی جنون نے خاموش سفارتکاری کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں اور اب ہمارے لیے اپنی تحریک آزادی کو چوکوں اور چوراہوں پر لے جانے اور میگا فون ڈ پلومیسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ۔ اُنہوںنے کہا کہ اگر عالمی برادری ، عالمی سول سوسائٹی ، اقوام متحدہ اور اس کی حقوق انسانی کونسل اور دنیا کے طاقتور پارلیمانی اداروں نے فوری مداخلت کر کے کشمیر کی صورتحال کو بہتر نہ کیا تو نوے لاکھ کشمیریوں کی زندگیاں اور اُن کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحا ل کو سنگین انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے ویبی نار کے شرکاءکو بتایا کہ مقبوضہ ریاست میں نسل کشی ، نسلی تطہیر اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ایک ارب بیس کروڑ انسانوں کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اُس حکمران ٹولے کے خلا ف ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کی زندگی اجیرن بنا د ی ہے اور جو خطہ میں جنگ کی آگ بھڑکانہ چاہتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین کی آڑ میں ریاست کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا جو مذموم منصوبہ شروع کیا ہے وہ نہ صرف چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اقدام جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے جنگ عظیم دوئم کے بعد اقوام متحدہ کی شکل میں جو بین الاقوامی نظام وجود میں آیا وہ کشمیر جیسے حساس تنازعہ کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنے چارٹر کی دفعہ 33، 34 اور 36 کے تحت پابند تھا کہ وہ کشمیر جیسی صورتحال میں مداخلت کر کے اسے بہتر کرتا لیکن اب صورتحال اتنی سنگین ہو گئی ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنے باب 7 کے تحت مداخلت کر کے خطہ میں امن و سلامتی کی صورتحال میں بہتری لانی پڑے گی ۔ صدر سردار مسعود خان نے مذید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی دہشتگردی نہیں ہو رہی ہے








