نیویارک ۔ 25 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی خواہش کا اظہار افغانستان کے سیاسی حل کے لیے ہماری کوششوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سربراہ اجلاس سے ورچوئل خطاب میں انہوں نے کہا کہ میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ دہائیوں پرانے تنازعہ افغانستان کا کوئی فوجی …
خطے میں امن کے لیے پاکستان کی خواہش کا اظہار افغانستان کے سیاسی حل کے لیے ہماری کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے، عمران خان

مزید خبریں
نیویارک ۔ 25 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی خواہش کا اظہار افغانستان کے سیاسی حل کے لیے ہماری کوششوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سربراہ اجلاس سے ورچوئل خطاب میں انہوں نے کہا کہ میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ دہائیوں پرانے تنازعہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اس کا واحد راستہ سیاسی حل ہے جس میں افغانستان کے تمام سیاسی رہنما شامل ہوں، پاکستان نے مکمل طور پر اس عمل کی سہولت کاری کی جو29 فروری 2019کو امریکہ۔طالبان امن معاہدے کی صورت میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو انتہائی اطمینان ہے کہ اس نے اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائی ہے، افغان رہنماﺅں کومصالحت کے حصول اور جنگ سے تباہ حال ملک میں امن کے قیام کے لیے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور انہیں افغان فریقین کے درمیان 12 ستمبر سے شروع ہونے والے مذاکرات میں مجموعی، وسیع تر اور جامع سیاسی حل نکالنا چاہیے۔ یہ عمل ہر صورت افغانوں کے درمیان اوران کے زیرسر پرستی ہونا چاہیے جس میں کوئی مداخلت اور کوئی بیرونی اثرو رسوخ استعمال نہ کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی بھی سیاسی حل کا حصہ ہونا چاہیے، تقریباً دو دہائیوں کی جنگ کے بعد یہ ضروری ہے کہ افغانستان کے اندر اور باہر سے بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کو امن عمل کو تہہ وبالا کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔








