اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ ہمارے خطہ میں علماءکرام اور دینی طبقات سے منسلک افراد کو قائدانہ مقام حاصل ہے، علماءکرام پر اہم ذمہ داری ہے کہ کسی مسئلہ پر لوگوں کی رہنمائی کریں، جمہوریت کی صحیح تعریف ہمارے ہاں موجود نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل اور پیس اینڈ ایجو کیشن …
ہمارے خطہ میں علماءکرام اور دینی طبقات سے منسلک افراد کو قائدانہ مقام حاصل ہے، علماءکرام پر اہم ذمہ داری ہے کہ کسی مسئلہ پر لوگوں کی رہنمائی کریں، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ ہمارے خطہ میں علماءکرام اور دینی طبقات سے منسلک افراد کو قائدانہ مقام حاصل ہے، علماءکرام پر اہم ذمہ داری ہے کہ کسی مسئلہ پر لوگوں کی رہنمائی کریں، جمہوریت کی صحیح تعریف ہمارے ہاں موجود نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل اور پیس اینڈ ایجو کیشن فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے ”پاکستان میں جمہوری اقدار کے فروغ“ کے عنوان سے منعقد ہونے والی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت صرف الیکشن، پارلیمنٹ، حکومت، نمائندے منتخب کرنے کا نام نہیں ہے، جمہوریت دراصل اقدار، طرز عمل اور رویوں کا نام ہے، جمہوری رویوں کی عدم موجودگی کے باعث جمہوریت کے ثمرات ہم تک نہیں پہنچ سکے، ہر فرد اپنے آپ میں رول ماڈل بننے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ بہتری کی جانب گامزن ہوگا،اسلام کے شروع کے دور میں پارلیمنٹ نہیں تھی لیکن جمہوری رویوں کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم نے تمام اہم فیصلوں میں صحابہ کرامؓ سے مشاورت کی اور جمہوری رویوں کو فروغ دیا، مشاورت کے بعد فیصلہ اجتماعی دانش کا نتیجہ ہوتا جس میں اختلاف ہوسکتا ہے، اختلاف جمہوری اقدار کا حسن ہے، اسلوب اختلاف جمہوری ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی ہونا ایک تاریخی تسلسل ہے، اسلوب جمہوری ہو تو اختلاف سے نفرت جنم نہیں لیتی،دینی مدارس اور جدید تعلیمی اداروں میں تاریخ کا علم نہ ہونے کے باعث علم کے مثبت فوائد حاصل نہیں ہو رہے۔ انہوں کا کہنا تھا کہ علماءکرام پر ذمہ داری ہے معاشرے میں امن و سکون کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں،بھارت کا عالمی دنیا میں منفی تاثر اجاگر کرنے کا ذمہ دار نریندر مودی ہے، نریندر مودی نے بھارت کے تشخص کو جتنا نقصان پہنچایا کسی اور لیڈر نے نہیں پہنچایا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر حافظ اکرام الحق نے کہا کہ قائد اعظم کے قول کے مطابق جمہوریت مسلمانوں کے خون کے اندر رچی بسی ہے، جمہوریت کی تعریف کے مطابق کاروبار ریاست میں عوام کا ہر سطح پر عمل دخل ہو، طے شدہ قوائد و ضوابط کے تحت جمہوریت کا نظام چلتا ہے،انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں شہریت کا نظام ہوتا ہے،تمام مذاہب اور طبقات کے لوگوں کو برابر حقوق حاصل ہوتے ہیں، پاکستان میں جمہوریت کے نظام کی بنیاد اسلامی قوانین پر مبنی ہے، تحریک پاکستان کو عوام میں لانے کیلئے علماءو مشائخ کا سب سے بڑا کردار ہے۔








