وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ،پاکستان سٹیل ملز کیلئے ری ٹرینچ منٹ پلان کے تحت 19656.213 ملین روپے کی منظوری دے دی گئی

اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔ فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے پاکستان سٹیل ملز کے حوالہ سے سمری اجلاس میں پیش کی گئی جس کا مقصد حکومتی اخراجات میں کمی ہے اس …

اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔ فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے پاکستان سٹیل ملز کے حوالہ سے سمری اجلاس میں پیش کی گئی جس کا مقصد حکومتی اخراجات میں کمی ہے اس حوالہ سے سپریم کورٹ میں بھی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ای سی سی نے پاکستان سٹیل ملز کیلئے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں ری ٹرینچ منٹ پلان کے تحت 19656.213 ملین روپے کی منظوری دیدی۔ اسی طرح سٹیل ملز کے حوالہ سے ایک اور سمری بھی ای سی سی کے سامنے پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 11.680 ارب روپے سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائے جائیں تاکہ 18 مئی 2020 تک ریٹائر ہونے والے ملازمین کے واجبات ادا کئے جا سکیں۔ یہ رقم سٹیل ملز کی انتظامیہ کیخلاف واجبات کی ادائیگی کیلئے کیسز نہ کرنے والے ملازمین کیلئے ہے۔ قبل ازیں ای سی سی نے وزارت صنعت و پیداوار کو ہدایت کی تھی کہ کیسز نہ کرنے والے سٹیل ملز کے ملازمین اور ان کے بقایا جات کی تفصیل فراہم کی جائے۔ ای سی سی کو بتایا گیا کہ ایسے ملازمین کی تعداد 3978 ہے جو ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وزارت تجارت نے ای سی سی سے درخواست کی کہ گندم اور چینی کی درآمدات پر ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان کی کمیشن موجودہ 2 فیصد کی شرح سے 0.75 فیصد کی جائے۔ ای سی سی نے وزارت تجارت کی تجویز کی بھی منظوری دیدی۔ مشیر خزانہ نے ہدایت کی کہ گندم کی دستیابی اہم ہے اور ای سی سی کے ہر اجلاس میں سب سے پہلے اس حوالہ سے تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ای سی سی کے چیئرمین نے گندم کی دستیابی اور اس حوالہ سے مختلف اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وزارت قومی غذائی تحفظ تمام شراکت داروں کی مشاورت سے عوام کو درست اعداد و شمار سے آگاہ کرے کہ کن کن ممالک سے کتنی گندم درآمد کی جا رہی ہے اور وہ کب کب پاکستان پہنچے گی۔ ای سی سی نے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے انتظام کار اور بحالی کیلئے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کے قیام کی بھی منظوری دی۔ اس حوالہ سے بجٹ سمیت دیگر امور کی بھی منظوری دی گئی ہے تاکہ پی ایم یو کو اوقاف ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے تحت مالی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے این ایچ اے کے قرضوں کو حکومتی گرانٹس میں شامل کرنے کی اصولی منظوری بھی دی ہے۔ وزارت منصوبہ بندی اس حوالہ سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مجوزہ منصوبہ کی نگرانی کریں گے۔ این ایچ اے کی درخواست پر ملک کے دور دراز علاقوں میں کم آمدنی اور خسارہ والے منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی کیونکہ یہ سماجی ترقی کے حوالہ سے اہمیت کے منصوبے ہیں۔ ای سی سی نے وزارت توانائی کی جانب سے گیس/آر ایل این جی کی صنعتی شعبہ کو فراہمی کی منظوری دی اور زیرو ریٹڈ پانچ بڑی برآمدی صنعتوں ٹیکسٹائل بشمول جیوٹ، کارپٹس، لیدر، سپورٹس اور سرجیکل کو گیس فراہمی کی منظوری دی ہے۔ گیس پر زیادہ منحصر ان صنعتوں کو آر ایل این جی فراہم کی جائے تاکہ ایس ایس جی سی پر گیس فراہمی کے دباﺅ کو کم کیا جا سکے۔ اکتوبر2020 سے برآمدی صنعتوں کو دو ہفتوں اور کسی حد تک تیسرے ہفتہ کے دوران ہفتہ اور اتوار کے روز گیس کی فراہمی میں 50 فیصد کمی ہو گی تاکہ ایس ایس جی سی کے گیس کے نظام میں استحکام لایا جا سکے۔ ایک مرتبہ استحکام کے بعد گیس فراہمی میں کمی نہیں ہو گی۔ فروری 2021 تک 930 روپے ایم ایم بی ٹی ٹیرف نافذ ہو گا جبکہ مارچ 2021 سے مقامی ٹیرف نافذ ہو گا جب تک متبادل نظام وضع نہ ہو اور اس کی منظوری نہ دی جائے۔ ای سی سی نے تندور اور گھریلو صارفین کے علاوہ کمرشل صارفین کیلئے قدرتی گیس کی قیمت فروخت میں اضافہ کی منظوری دی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگست 2020 تک نافذ جی آئی ڈی سی کے ایک تہائی سے زیادہ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ ای سی سی نے دونوں گیس کمپنیوں کے گھریلو صارفین کے گیس میٹرز کا ماہانہ کرایہ میں 20 روپے ماہانہ اضافہ کی بھی منظوری دی ہے۔ ای سی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ توانائی کے شعبہ کے ٹیرف کے حوالہ سے نومبر 2019 سے جون 2020 کیلئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی بھی منظوری دی۔ فیصلہ کے مطابق بجلی کی قیمت میں 1.62 روپے فی کے ڈبلیو ایچ اضافہ متوقع ہے لیکن ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ اس میں سبسڈی شامل کر کے صارف کیلئے اضافہ کو 1.30 روپے فی کے ڈبلیو ایچ تک کم کیا جائے اس طرح 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے قیمت میں صرف 0.32 روپے یعنی 32 پیسے اضافہ ہو گا۔

مزید خبریں