مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحیفظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس

اسلام آباد۔یکم اکتوبر (اے پی پی): مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحیفظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس جمعرات کو یہاں کابینہ ڈویڑن میں منعقد ہوا۔ فنانس ڈویڑن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایکنک نے منصوبہ بندی کمیشن/منصوبہ بندی ڈویڑن کے ترقیاتی عوامل/پراجیکٹ مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی حکمت عملی اور ہدایات کا جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی۔ نئے طریقہ کار …

اسلام آباد۔یکم اکتوبر (اے پی پی): مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحیفظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس جمعرات کو یہاں کابینہ ڈویڑن میں منعقد ہوا۔ فنانس ڈویڑن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایکنک نے منصوبہ بندی کمیشن/منصوبہ بندی ڈویڑن کے ترقیاتی عوامل/پراجیکٹ مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی حکمت عملی اور ہدایات کا جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی۔ نئے طریقہ کار کے مطابق مندرجہ ذیل چھ ایریاز میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جن میں منصوبہ کی شناخت اور پی سی ون کی تیاری، پی سی ون کی تیاری اور منظوری، پراجیکٹ کی مینجمنٹ، پراجیکٹ کا اکائنٹ کھولنے، فنڈز کی ریلیز اور مانیٹرنگ وغیرہ شامل ہیں۔ ایکنک نے انڈس ہائی وے این۔55، شکارپور، راجن پور سیکشن (221.95) کلو میٹر سڑک کی تعمیر کی منظوری دی۔ منصوبہ44703.890 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔ منصوبہ میں ایشیائی ترقیاتی بینک 40233.500 ملین روپے فراہم کرے گا۔ یہ منصوبہ ہر تین سال میں مکمل ہو گا۔ منصوبہ کے تحت این۔55 کے شکارپور۔ راجن پور سیکشن پر دو اضافی لینز کی تعمیر کے علاوہ پہلے سے موجود دو لینز کی توسیع اور بحالی کی جائے گی۔ 221.950 کلو میٹر طویل سڑک کو دو رویہ تعمیر کیا جائے گا جس میں ہر لین کی چوڑائی 3.65 میٹرہو گی۔ این ایچ اے اس منصوبہ پر عملدرآمد کی ذمہ دارہو گی۔ رواں مالی سال 2020-21 کے پی ایس ڈی پی میں اس منصوبہ کیلئے 1000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ایکنک نے این۔55 کے ڈی جی خان۔ راجن پور سیکشن پر 121.50 کلو میٹر طویل 4 لائن شاہراہ کی تعمیر کی منظوری دی جس پر مجموعی اخراجات کا تخمینہ 33172.22 ملین روپے ہے جس میں 28528.11 ملین روپے اے ڈی بی فراہم کرے گا۔ منصوبہ تین سال میں مکمل ہو گا۔ یہ منصوبہ راجن پور سے شروع ہو گا اور فاضل پور، محمد پور دیوان، جام پوراور ڈیرہ غازی خان تک تعمیر ہو گا۔ مالی سال 2020-21 میں اس کیلئے 500 ملین روپے مختص ہیں۔ مزید برآں ایکنک نے ڈی جی خان۔ڈی آئی خان کے این۔55 (208.19) کلو میٹر طویل شاہراہ کے منصوبہ کی بھی منظوری دی جس پر اخراجات کا مجموعی تخمینہ 52276.53 ملین روپے ہے اور اے ڈی پی اس کیلئے 44957.82 ملین روپے فراہم کرے گا۔ این ایچ اے کے تحت یہ منصوبہ بھی تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ ڈی جی خان سے شروع ہو کر شاہ صدر دین، کالا، شاہدان لنڈ، تونسہ، بٹی قیصرانی، ماہرہ، پرووا اور ڈی آئی خان کو ملائے گا۔ مالی سال 2020-21 میں اس کیلئے 500 ملین روپے پی ایس ڈی پی کے تحت رکھے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران ایگزیکٹو کمیٹی نے 79.890 کلو میٹر طویل جا?۔بیلا روڈ کی بحالی اور اپ گریڈیشن کی بھی منظوری دی اس منصوبہ کو بغیر کسی مالی معاونت کے 11118.123 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ این ایچ اے کی زیر نگرانی یہ منصوبہ تین سال میں مکمل ہو گا۔ جھل جا سے شروع ہونے والی سڑک اوگانی، سپائی سنگ، چوکی سے ہوتی ہوئی بیلا تک جائے گی۔ اس کی تکمیل سے سفری دورانیہ کو کم کرنے کے علاوہ تجارتی سامان کی جلد ترسیل میں بھی مدد ملے گی۔ ایکنک نے 21338.005 ملین روپے کی لاگت کے پشاور نادرن بائی پاس منصوبہ کی بھی منظوری دی۔ 32.2 کلو میٹر طویل منصوبہ میں چار لینز کے بائی پاس کی تعمیر کے ساتھ دونوں اطراف سروس روڈز بھی تعمیر کی جائیں گی، اس منصوبہ کو تین پیکیجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیکشن ون میں ایم ون چارسدہ روڈ انٹرچینج کی لمبائی 7.60 کلو میٹر، سیکشن ٹو میں چارسدہ، وارسک روڈ انٹرچینج کی لمبائی 11.6 کلو میٹر، سیکشن تھری میں تھری اے اور بی کے تحت وارسک روڈ تا ناصر باغ تک 5.50 کلو میٹراور تخت بھائی تک 7.50 کلو میٹر سڑک تعمیر کی جائے گی۔ ایکنک نے کے پی کے ہائیڈروو متبادل توانائی کے ترقیاتی پروگرام کے تحت ضلع صوابی میں عالمی بینک کے اشتراک سے 157 میگاواٹ بیدیاں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بھی منظوری دی ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 79374.85 ملین روپے اور غیر ملکی امداد/قرض کی مد میں 57339.33 ملین روپے کا تخمینہ ہے۔ ایکنک نے ہدایت کی کہ آئی پی پی کے قوانین اور نیپرا کے قواعد و ضوابط کے تحت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ منصوبہ کا فنانسر بجلی کی کم از کم قیمت کو یقینی بنائے گا۔ مزید برآں 88 میگاواٹ جبرال کالام ہائیڈرو پاور منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی جس پر بشمول ایف ای سی مجموعی طورپر 36430.188 ملین روپے لاگت آئے گی۔ ایکنک نے 8815.785 ملین روپے ایف ای سی کی بھی منظوری دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ آئی پی پی اور نیپرا قوانین و ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ سپانسر ایکنک کی منظوری کے بعد چھ ماہ کے اندر منصوبہ کے حوالہ سے سی ڈی ڈبلیو پی کو آگاہ کرے گا۔ ایکنک نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے سٹیج ون کے تحت داسو تا اسلام آباد براستہ مانسہرہ 2160 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے منصوبہ کی بھی منظوری دی ہے جس پر مجموعی طورپر 132249.84 ملین روپے کی لاگت آئے گی اور اس میں زرمبادلہ کی مد میں 112228.74 ملین روپے وصولی کا تخمینہ ہے۔ یہ منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہو گا اور اس کی فنانسنگ عالمی بینک کرے گا۔ منصوبہ کا مقصد داسو سے 2160 میگاواٹ بجلی مانسہرہ کے راستے اسلام آباد لا کر متعلقہ ڈسکوزکو فراہم کی جائے گی۔

مزید خبریں