اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی): وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔صنفی مساوات کے حصول کے لئے عالمگیر امنگوں کے لئے بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ترقی پزیر ممالک کی خواتین کو متحد کیا۔گزشتہ روز خواتین سے متعلق …
خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا خواتین سے متعلق چوتھی عالمی کانفرنس کی پچیسویں سالگرہ پر اعلی سطحی اجلاس سے ورچوئل خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی): وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔صنفی مساوات کے حصول کے لئے عالمگیر امنگوں کے لئے بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ترقی پزیر ممالک کی خواتین کو متحد کیا۔گزشتہ روز خواتین سے متعلق چوتھی عالمی کانفرنس کی پچیسویں سالگرہ پر اعلی سطحی اجلاس سے ورچول خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ صدی میں خواتین کے حقوق کی تحریک نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس ضمن میں متعدد اہم قوانین اور قاعدے منظور اور وضع کئے گئے۔صنفی مساوات کے حصول کے لئے عالمگیر امنگوں کے لئے بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ خواتین کے سماجی، معاشی اور سیاسی میدانوں میں کردار ادا کرنے میں تاحال رکاوٹیں موجود ہیں۔ پاکستان کی خواتین کو بااختیار بنانے کا عہد ہمیں ہمارے دین، ثقافتی اقدار، ہمارے بانیان کی بصیرت اور آئین میں سمودئیے جانے والے نصب العین سے ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے آغاز سے ہی خواتین کے حقوق کے لئے کام کرتا چلا آرہا ہے۔ انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ مرتب کرتے ہوئے ہماری معزز مندوب بیگم شائستہ اکرام اللہ نے آرٹیکل سولہ کی شمولیت میں فعال کردار ادا کیا۔ بیجنگ میں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ترقی پزیر ممالک کی خواتین کو متحد کیا اور ان تجربات کو آواز دی جس میں سے وہ گزری تھیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں جو ”ریاست مدینہ“ کی طرز کی حامل ہوجہاں خواتین کا تحفظ اور ان کے حقوق کی آبیاری ہو۔قانون سازی کے ذریعے ہم مسلسل کوشاں ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد، گھریلو سطح پر برے برتاو، حراساں کرنے، سماج اور جائیداد میں حقوق کے تحفظ جیسے امور کو موثر انداز سے نمٹاجاسکے۔ انسانی حقوق کے لئے ہمارے نیشنل ایکشن پلان میں ’خواتین کا تحفظ‘ شامل ہے۔ یہ اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کے تحفظ کے مراکز اور چوبیس گھنٹے دستیاب ہیلپ لائن (1099) جیسے اقدامات کئے گئے تاکہ مفت قانونی مشورہ، ازالے اور حوالگی جیسے طریقوں سے ان کی مدد ہو۔قیادت کی سطح پر خواتین کی شمولیت کی شرح پاکستان میں بتدریج بڑھی ہے۔ حالیہ برسوںمیں خاتون وزیراعظم، گورنر سٹیٹ بنک، سپیکر قومی اسمبلی کے علاوہ وزرائ، سفرا، ججز اور اعلی سطح کے سول سرونٹس کے مناصب پر خواتین فائز رہی ہیں۔ ہماری خواتین لڑاکا طیارے اڑا رہی ہیں، اقوام متحدہ کے امن دستوںمیں فرائض انجام دے رہی ہیں، حال ہی میں ایک خاتون کو فوج میں تھری سٹار جنرل کے عہدے پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں ہماری خواتین کی نصف آبادی اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ ہم خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے تاکہ ان کی ترقی اور بااختیار ہونے کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ دور ہو اور وہ ترقی کی اعلی ترین معراج تک پہنچ پائیں۔








