ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس گورننس آبزرویٹری پالیسی کی پیش رفت کا جائزہ لیا

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی): وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے آج احساس گورننس اور دیانت داری پالیسی کا جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس طلب کیا۔ اس پالیسی کو کابینہ نے باضابطہ طور پر منظورکیا اور نومبر 2019میں اس کا باقاعدہ اجرائ کیا گیا۔ یہ پالیسی تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویڑن پر عائد ہوتی ہے اور اس کی عملدرآمد ایجنسیوں …

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی): وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے آج احساس گورننس اور دیانت داری پالیسی کا جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس طلب کیا۔ اس پالیسی کو کابینہ نے باضابطہ طور پر منظورکیا اور نومبر 2019میں اس کا باقاعدہ اجرائ کیا گیا۔ یہ پالیسی تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویڑن پر عائد ہوتی ہے اور اس کی عملدرآمد ایجنسیوں میں بی آئی ایس پی، پاکستان بیت المال، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور ٹرسٹ فار والینٹری آرگنائزیشن شامل ہیں۔ کرپشن کی حوصلہ شکنی، عوامی مسائل کے استعمال پر قواعد پر مبنی کنٹرول، نتائج میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کیلئے احساس نے اس پالیسی کو اپنے 135پروگراموں اور پالیسی اقدامات میں شامل کیا ہے۔پی اے ایس ایس ڈی کی چاروں عملدرآمد ایجنسیوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے، ڈاکٹر نشتر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے احساس گورننس آوبزرویٹری پر کا جاری ہے۔ اس حوالے سے ہم نے دسمبر 2019 سے ابتک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ احساس کے تحت کام کرنے والی تمام پاورٹی ڈویڑن ایجنسیوں کیلئے لازم ہے کہ وہ گورننس اور دیانت داری کی پالیسی پر عمل کریں۔ احساس گورننس آوبزرویٹری کا مقصد پالیسی کیساتھ تعمیل کی حیثیت کا اندازہ کرنا ہے۔ ہم گورننس اور ڈیلوری میں دیانت داری کو اعلی ترجیح دیتے ہیں۔اس پالیسی کا مقصد سماجی فلاح و بہبود کے اداروں میں بد عنوانی اور ملی بھگت سے نمٹنا ہے۔ اس میں بورڈ کے کام کرنے کے طریقہ کار، پالیسیوں کی اہمیت، وسل بلوئنگ اور مفادات کے تصادم پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ پالیسی رسک مینجمنٹ اوراشورنس، رسک رجسٹرز کی مینٹینس، احتسابی افسران کی تقرری، غلطی، دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے فریم ورکرز، آئی ٹی سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ، مالیاتی نظام کو مستحکم کرنے،خریداری کے نظام، معلومات تک رسائی، الیکٹرانک فائلنگ، ورک پلانز کی ترقی اور قابل اعتماد ڈیٹا سیٹ کی تشکیل کے ذریعے ایمانداری کو فروغ دینے کیلئے ادارہ جاتی فریم ورک کا بھی تعین کرتی ہے۔اس کے علاوہ، اس پالیسی کا مقصد صوابدیدی اختیارات کو ختم کرنا ہے۔اس پالیسی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چار سال کے اختتام تک، پی اے ایس ایس ڈی اعدادوشما ر کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔ گورننس آبزرویٹری پالیسی پر عملدرآمد اور نگرانی کے آلے کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس پالیسی کے بعد سے پی اے ایس ایس ڈی اور اس کے اداروں نے گورننس اصلاحات پر عملدرآمد میں بہتری کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا ہے۔