ایف بی آر نے برآمد کنندگان کو ریفنڈز کے تیز اور شفاف اجرائ کے سسٹم "فاسٹر” کو "فاسٹر پلس” پر اپ گریڈ کر دیا

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی): ایف بی آر نے خودکار طریقے سے سیلز ٹیکس کے ریفنڈ کے لئے 2002 میں "سٹار" سسٹم متعارف کرایا جو ایک نیم خودمختار سسٹم تھا جس میں ریفنڈ کا کلیم کرنے والوں کو "ریفنڈ کلیمز پریپریٹری سسٹم" (آر سی پی ایس) کے ذریعے ریفنڈ کلیمز جمع کرانا پڑتے تھے۔ ریفنڈ ڈیٹا سی ڈی پر فیلڈ دفاتر لے جایا جاتا تھا جہاں ریفنڈ کلیمز کی منظوری …

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی): ایف بی آر نے خودکار طریقے سے سیلز ٹیکس کے ریفنڈ کے لئے 2002 میں "سٹار” سسٹم متعارف کرایا جو ایک نیم خودمختار سسٹم تھا جس میں ریفنڈ کا کلیم کرنے والوں کو "ریفنڈ کلیمز پریپریٹری سسٹم” (آر سی پی ایس) کے ذریعے ریفنڈ کلیمز جمع کرانا پڑتے تھے۔ ریفنڈ ڈیٹا سی ڈی پر فیلڈ دفاتر لے جایا جاتا تھا جہاں ریفنڈ کلیمز کی منظوری دی جاتی تھی۔ سال 2011 میں کارخانہ داروں اور برآمدکنندگان کے ریفنڈ کلیمز پر کارروائی کے لئے ای آر ایس متعارف کرایا گیا جس کے تحت ریفنڈ کلیمز آن لائن جمع کرائے جا سکتے تھے جبکہ دیگر شعبوں کے ریفنڈ کلیمز پر کارروائی کے لئے سٹار سسٹم کام کرتا رہا۔ ایف بی ا?ر کے مطابق زیرو ریٹنگ کی واپسی کے بعد سابقہ زیرو ریٹنگ والے برآمد کنندگان کے ریفنڈ کلیمز پر 72 گھنٹے میں تیز کارروائی کے لئے جولائی 2019 سے "فاسٹر” متعارف کرایا گیا۔ یہ سسٹم چونکہ نیا تھا اس لئے کئی ابتدائی مسائل کی بنائ پر یہ مناسب طریقے سے کام نہیں کر رہا تھا۔ شروع سے ہی فاسٹر سسٹم میں ان تکنیکی مسائل کے باعث ریفنڈ کلیم کرنے والوں کو مشکلات پیش آئیں مثلاً کہیں کیس پری پراسیسنگ کے مرحلے میں پھنس گئے، کہیں ریفنڈ کی رقوم نہ تھیں، یا ریفنڈ کے سٹیٹس پر کوئی اطلاع نہ ملتی اور یوں ریفنڈ پر کارروائی اور ان کی منظوری تاخیر کا شکار ہو رہی تھی۔ ریفنڈ کلیم کرنے والوں کے لئے بھی یہ سسٹم نیا تھا اور ضمیمہ ایچ کے ذریعے ریفنڈ کلیم جمع کرانے میں ان سے بھی بے پناہ غلطیاں ہو رہی تھیں۔ ایف بی آر کے آئی آر آپریشن ونگ نے پرال کے ساتھ مل کر جولائی 2020 میں فاسٹر سسٹم کو مسائل سے پاک، مکمل طور پر شفاف اور خودکار بنانے کے لئے اس کی اوورہالنگ کا کام شروع کیا۔ فاسٹر پلس کے تحت برآمد کنندگان کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیم جو فائلنگ کی غلطیوں سمیت کسی بھی وجوہ کی بنائ پر فاسٹر سسٹم میں پری پراسیسنگ کے مرحلے میں پھنسے ہوئے تھے، انہیں واپس کر کے کلیم کرنے والے برآمد کنندگان کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ ان کا جائزہ لے کر ان میں کسی بھی خامی کو دور کر کے دوبارہ جمع کرائیں۔ اس اقدام کی بدولت طویل عرصے سے پھنسے ہوئے ریفنڈ کے ہزاروں کلیم ریفنڈہو رہے ہیں۔ ریفنڈ کلیم جمع کرانے میں غلطیوں کو روکنے اور صرف درست ریفنڈ کلیمز کی فائلنگ یقینی بنانے کے لئے "انٹری گیٹ چیک پوائنٹ” کا طریقہ اپنایا گیا۔اس طرح ریفنڈ کے تمام کلیمز پر کارروائی یقینی ہو جائے گی۔ اب کوئی بھی ریفنڈ کلیم پری پراسیسنگ کے مرحلے میں نہیں پھنسے گا۔ اس چیک کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اگر ریفنڈ کلیم کرنے والے ریفنڈ کلیم میں غلطیاں ہو جاتی ہیں تو سسٹم اسے بالکل آسان زبان میں مکمل رہنمائی فراہم کرے گا۔ زیرو ریٹنگ والے سابقہ شعبوں کی معلومات اپ ڈیٹ ہو جائیں گی جس سے فاسٹر ماڈیول کے ذریعے ریفنڈ کلیمز پر مناسب طریقے سے کام ہو سکے گا۔ ریفنڈ کلیمز پر مرحلہ وار اپ ڈیٹ دیکھنے کے لئے ایف بی آر ای پورٹل پر ایک نیا ڈیش بورڈ بنا دیا گیا ہے، لہٰذا، اب اس مقصد کے لئے ایف بی آر یا پرال کے عملہ کے کسی رکن سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیم کرنے والے اب موبائل ایپ کے ذریعے ہر مرحلے پر ریفنڈ کلیم کا سٹیٹس دیکھ سکتے ہیں اور اس موبائل ایپ کو بھی فاسٹر پلس سسٹم کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ریفنڈ سٹیٹس کا اپ ڈیٹ ریفنڈ کلیم کرنے والے فرد کے نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبر سے 9966 پر ایس ایم ایس بھیج کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔