اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی): ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس اور اس سے ملحقہ اجلاسوں میں پاکستان کی فعال اور نمایاں شرکت اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کی حمایت اور عزم کا اظہار ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان دوسرے ممبر ممالک کے ساتھ ملکر ایک ایسی دنیا کی …
جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں پاکستان کی شرکت اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کی حمایت کا اظہار ہے۔ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی): ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس اور اس سے ملحقہ اجلاسوں میں پاکستان کی فعال اور نمایاں شرکت اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کی حمایت اور عزم کا اظہار ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان دوسرے ممبر ممالک کے ساتھ ملکر ایک ایسی دنیا کی تعمیر کے لئے سرگرم عمل رہے گا جہاں تنازعہ کو کالعدم قرار دیا گیا ہو اور امن و سلامتی کے حالات میں سب کے لئے مساوی خوشحالی کا حصول جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان نے 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ ”اقوام متحدہ کو عصر حاضرکے چیلنجوں کا بھر پور جوابدہ ہونا چاہئے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان 21 ستمبر سے یکم اکتوبر 2020 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے افتتاحی تقریبات میں اعلی سطح پر شریک ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے 75 ویں سالگرہ کی تقریبات کی وجہ سے اس سال اس اجلاس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔کوویڈ۔19 کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے تقریبات کا انعقاد ورچوئل انداز میں منعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کثیرالقومیت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اوربھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا۔ ترجمان نے کہاکہ وزیراعظم نے کشمیری عوام کو خودارادیت کا حق دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور دور حاضر کے متعدد عالمی اور علاقائی چیلنجز کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔ وزیر اعظم نے غربت کے خاتمے، غیر قانونی مالی بہاو، ترقی کے لئے مالی اعانت اور حیاتیاتی تنوع سمٹ سے متعلق چار دیگر اعلی سطحیسائیڈ لائن تقاریب میں کلیدی مقررین میں سے ایک کے طور پر بھی شرکت کی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی متعدد سرگرمیوں میں حصہ لیا جن میں اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ اور خواتین کے بارے میں چوتھی عالمی کانفرنس کی 25 ویں برسی کی یاد میں منعقدہ جنرل اسمبلی کے اعلی سطحی مکمل اجلاس کے علاوہ سارک کے وزارتی اجلاس،”اتفاق رائے کے لئے اتحاد”گروپ اور اقوام متحدہ کا تہذیبوں کے اتحاد سے متعلق اجلاس شامل تھے۔ وزیر اعظم نے بھارتی غیرقانونی مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال پر روشنی ڈالی، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیرکے پرامن حل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کوویڈ۔19 وبا، ترقی پذیر ممالک کے لئے قرضوں میں ریلیف کے اقدامات، ترقی کے لئے مالی اعانت، موسمیاتی تبدیلی، اسلامو فوبیا؛ انتہا پسند بی جے پی۔آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا انتہا پسند ‘ہندوتوا’ نظریہ، افغانستان امن عمل، فلسطین اور اقوام متحدہ میں ایک جامع اصلاحات جیسے عالمی برادری کو درپیش چیلنجز پر بھی پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو کم سے کم 500 بلین امریکی ڈالر خصوصی ڈرائنگ رائٹس تشکیل دیئے جانے اور ترقی پذیر ممالک کو غیر استعمال شدہ ایس ڈی آرز کی دوبارہ تخصیص اور مالی جگہ معاشی و معاشرتی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے اورکوویڈ۔ 19 اور اس کی وجہ سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی ٹھوس تجاویز پیش کیں۔انہوں نے پیرس معاہدے (موسمیاتی تبدیلی پر)، خاص طور پر سالانہ 100ارب ڈالر موسمیاتی فنانس کی فراہمی سے متعلق وعدوں کو پورا کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ عالمی سطح پر اشتعال انگیزی اور نفرت اور تشدد پر اکسانے کو غیر قانونی قرار دیئے جانے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر زور دیا کہ وہ ”اسلاموفوبیا کے خاتمے کا عالمی دن مقرر کرنے کا اعلان کرے”۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی مختلف مصروفیات کے دوران وزیر خارجہ نے بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال اورپوری دنیا بالخصوص پڑوسی ملک میں بڑھتے ہوئے”اسلاموفوبیا” کے حوالے سے وزیر اعظم کی طرف سے ظاہر کردہ تشویش اور تجاویز سے عالمی برادری کو آگاہ کیا۔ پاکستان کیکثیر الجہتی متفقہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امن سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق کے اہداف پر عملدرآمد میں نمایاں کردار ادا کرتا رہے گا۔انہوں نے اقوام متحدہ کے ڈھانچے اور کارکردگی کو مضبوط اور جمہوری بنانے پر زور دیا۔









