قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس، جاری انوسٹی گیشنز پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی): قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے امیر مقام، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن (ر) محمد صفدر اور شیر اعظم وزیر کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں انکوائریوں اور بلین ٹری سونامی کیس، نوابزادہ محمود زیب و دیگر ، عثمان سیف ا? و دیگر کے خلاف جاری انوسٹی گیشنز پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ نیب …

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی): قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے امیر مقام، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن (ر) محمد صفدر اور شیر اعظم وزیر کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں انکوائریوں اور بلین ٹری سونامی کیس، نوابزادہ محمود زیب و دیگر ، عثمان سیف ا? و دیگر کے خلاف جاری انوسٹی گیشنز پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آبادمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل اکاونٹبلٹی نیب ،ڈی جی آپریشن نیب، ڈی جی نیب خیبر پختونخوا نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں مالم جبہ سوات کیس میں معزز پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی مصدقہ نقول کی روشنی میں قانون کے مطابق کیس پر کارروائی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں آفیسرز/آفیشلزآف بنک آ ف خیبر پشاور اور دیگر کے خلاف قواعد و ضوابط کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پربھرتیاں کرنے کے الزام میں انوسٹی گیشن کی منظوری دی گئی۔اس کے علاوہ انجینئر امیر مقام ،مولانا فضل الرحمان، کیپٹن ریٹائرڈمحمد صفدراورشیراعظم وزیر کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں انکوائریوں اوربلین ٹری سونامی کیس،نوابزادہ محمود زیب ودیگر،عثمان سیف اللہ اور دیگر کے خلاف جاری انوسٹی گیشنز پر اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تما م انکوائریاں، انوسٹی گیشنز قانون کے مطابق آزادانہ ،منصفانہ، شفافیت،میرٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پرمکمل کی جائیں اور متعلقہ تمام افراد سے قانو ن کے مطابق ان کا موقف حاصل کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کے لئے انتہائی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے کیونکہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی نہ صرف اولین ترجیح ہے بلکہ اس کیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جا رہے ہیں۔نیب نے احتساب سب کےلئے کی پالیسی کے تحت 466 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کےلئے اعزازکی بات ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت ،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے قانو ن کے مطابق اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپنا راستہ خودبنائے گا۔ چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں اور تمام انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکوٹرز پوری تیاری، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔

مزید خبریں